شرح سود بڑھنے کے خدشات ، ڈالر دباؤ کا شکار
- یورو 1.1553 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3390 ڈالر کی سطح پر رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد عالمی کرنسی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جبکہ امریکی ڈالر جمعرات کو اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ دوسری جانب امریکا میں مئی کے دوران مہنگائی کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق ایران میں متعدد اہداف پر نئے حملے کیے گئے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جہاں برینٹ خام تیل 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
یورو 1.1553 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3390 ڈالر کی سطح پر رہا۔ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی کمی کے بعد 99.903 پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا میں سالانہ بنیادوں پر صارفین کی مہنگائی 4.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم بنیادی مہنگائی میں نسبتاً محدود اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قیمتوں پر دباؤ قابو میں رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں مزید اضافہ نہیں کرے گا، اگرچہ رواں سال شرح سود میں کمی کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب جاپانی ین 160.52 فی ڈالر کی سطح پر رہا، جس سے جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ کا شکار رہے، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔