پاکستان

پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 26 خوارجی ہلاک

  • پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے، عطاء اللہ تارڑ
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 03:03pm

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاک افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے اہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کارروائیوں میں بھارت کے حمایت یافتہ 26 خوارجی ہلاک ہوئے۔

بدھ کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد کیے گئے جن میں 9 جون کو موسیٰ درہمیں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر حملہ، 2 جون 2026 کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ اور 9 مئی 2026 کو بنوں پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ شامل ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا،

وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ چار اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جن میں ایک ٹریننگ سینٹر، اسلحے کا ذخیرہ اور فتنہ الخوارج کے کمانڈر علیم خان خوشحالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل کے مراکز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے شہریوں کا تحفظ اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے مطابق عزمِ استحکام وژن کے تحت سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف بلا تعطل مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔