دنیا

جی سیون اجلاس میں نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات متوقع

  • ملاقات میں تجارت، ویزا پالیسی اور توانائی کے شعبے میں تعاون سرفہرست موضوعات ہوں گے
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 02:47pm

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے آئندہ ہفتے فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوطرفہ ملاقات کا امکان ہے، جس میں تجارت، ویزا پالیسی اور توانائی کے شعبے میں تعاون سرفہرست موضوعات ہوں گے۔

15 سے 17 جون تک فرانس کے شہر ایویان-لے-بین میں منعقد ہونے والے جی 7 اجلاس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے رہنما شریک ہوں گے، جبکہ بھارت بھی مدعو ممالک میں شامل ہے۔ نریندر مودی 13 جون سے اپنے پانچ روزہ دورے کا آغاز کریں گے اور جی 7 اجلاس میں شرکت کے بعد سلوواکیہ کا بھی دورہ کریں گے۔

ذرائع کے مطابق مودی اور ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات میں دوطرفہ تجارتی تعلقات، توانائی کے شعبے میں تعاون اور ایچ-ون بی ویزوں کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات امریکی محصولات (ٹیرف) اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے باعث دباؤ کا شکار رہے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان مختصر تنازع کے خاتمے میں انہوں نے کردار ادا کیا تھا، تاہم بھارت اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح روابط میں اضافہ ہوا ہے، جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا گزشتہ ماہ بھارت کا دورہ بھی شامل ہے۔ اس دوران تجارت، ویزا معاملات، سمندری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل کے مطابق نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مذاکرات ایک عبوری دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جسے جولائی کے وسط تک حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ-ون بی ویزا قوانین میں ممکنہ سختی بھی مودی اور ٹرمپ کی ملاقات کا اہم موضوع ہوگی کیونکہ اس کا اثر امریکہ میں کام کرنے والے ہزاروں بھارتی پیشہ ور افراد پر پڑ سکتا ہے۔ دونوں رہنما امریکہ اور وینزویلا کے درمیان ممکنہ توانائی تعاون پر بھی گفتگو کر سکتے ہیں۔