کاروبار اور معیشت

مقای انڈسٹری کا درآمدی ٹائلز پر موجودہ ٹیرف برقرار رکھنے کا مطالبہ

  • یہ شعبہ اس وقت اپنی پیداواری صلاحیت کے تقریباً 50 فیصد پر کام کر رہا ہے، صنعتی نمائندوں کی گفتگو
شائع June 8, 2026 اپ ڈیٹ June 8, 2026 09:46am

مقامی سرامک ٹائلز انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی تیار ٹائلز پر موجودہ ٹیرف ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے اور خبردار کیا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کسی بھی کمی سے مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جو پہلے ہی مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے صنعت کے نمائندوں نے بتایا کہ طویل معاشی سست روی، تعمیراتی سرگرمیوں میں کمی اور انتہائی بلند توانائی اخراجات کے باعث یہ شعبہ اس وقت اپنی پیداواری صلاحیت کے تقریباً 50 فیصد پر کام کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعتکار شدید مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر ان ممالک سے آنے والی سستی اور ڈمپڈ درآمدات سے، جہاں پیداواری لاگت اور توانائی کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہیں۔

صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے مطابق پاکستانی ٹائل ساز اضافی تحفظات نہیں چاہتے، بلکہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت وہ لاگت کے نقصانات ختم کرے جو مقامی پیداوار کو چین اور بھارت جیسے علاقائی ممالک کے مقابلے میں کم مسابقتی بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی، گیس، مالیاتی اخراجات اور ریگولیٹری لاگت میں اضافے نے پیداواری لاگت کو بہت بڑھا دیا ہے۔

صنعت نے خبردار کیا کہ درآمدی تیار ٹائلز پر موجودہ ٹیرف ڈھانچے میں کمی سے سستی اور ڈمپڈ مصنوعات کی مزید آمد بڑھے گی، جس سے مقامی پیداوار مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گی اور صنعتی پائیداری کو خطرہ لاحق ہوگا۔ نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی صنعت سستی درآمدات کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ درآمدی مصنوعات کو کم پیداواری لاگت، بڑی معیشت اور بعض صورتوں میں ڈمپنگ کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی کا درست حل یہ ہے کہ مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے، جس کے لیے توانائی کی لاگت میں کمی، آسان مالیاتی سہولتیں اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان اقدامات سے مقامی صنعت مکمل صلاحیت پر چل سکے گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو بہتر سہارا ملے گا۔

صنعتی رہنماؤں نے زور دیا کہ موجودہ ٹیرف ڈھانچے کو برقرار رکھنا ملکی پیداواری صلاحیت کے تحفظ اور مزید ڈی انڈسٹریلائزیشن کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت سرامک ٹائلز انڈسٹری کی اسٹریٹجک اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایسی پالیسیاں اپنائے گی جو مقامی صنعت کو مضبوط کریں نہ کہ اسے کم لاگت والی غیر منصفانہ درآمدات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026