ٹیلی نار پاکستان ایزی پیسہ فروخت کرنے پر غور کر رہی ہے، رپورٹ میں دعویٰ
- ایزی پیسہ کی ممکنہ فروخت کے لیے ٹیلی نار نے سٹی گروپ کی خدمات حاصل کر لیں
ناروے کی ٹیلی کام کمپنی ٹیلی نار پاکستان کے ایزی پیسہ بینک میں اپنے کنٹرولنگ حصص کی فروخت کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ بات بلوم برگ نے جمعہ کو معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ فروخت کی صورت میں ٹیلی نار کا پاکستان سے مکمل انخلا ہو جائے گا۔
گزشتہ سال ٹیلی نار نے ٹیلی نار پاکستان کو پی ٹی سی ایل گروپ کے ہاتھوں 108 ارب روپے، یعنی تقریباً 38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں فروخت کرنے کا عمل مکمل کیا تھا۔ تاہم ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ایزی پیسہ اس معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔
31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران ایزی پیسہ نے 1.49 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع (PAT) اور 2.47 روپے فی حصص آمدن ( ای پی ایس) رپورٹ کی، جبکہ قبل از ٹیکس منافع ( پی بی ٹی ) 3.66 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 84 کروڑ روپے کے مقابلے میں 4.4 گنا زیادہ ہے۔
بلوم برگ کے مطابق نارویجن کمپنی اپنے 55 فیصد حصص کی فروخت کے لیے سٹی گروپ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ذرائع میں سے ایک کے مطابق اس حصص کی مالیت کئی سو ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیلی نار آئندہ چند ماہ کے دوران ممکنہ خریداروں سے ابتدائی پیشکشیں طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم غور و خوض کا عمل جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایزی پیسہ کے باقی حصص اینٹ گروپ کمپنی کے پاس ہیں۔
کرسٹوفر وانگ بیورنسن، جو ڈی این بی کارنیگی میں تجزیہ کار ہیں، نے بلوم برگ سے گفتگو میں کہا کہ ’’مالیاتی برادری ٹیلی نار کی جانب سے اپنے ایشیائی پورٹ فولیو کو سادہ اور محدود بنانے کے اقدام کو مثبت نظر سے دیکھے گی۔‘‘