پاکستان

ویسٹ ٹو انرجی پالیسی کی تیاری کیلئے 18 رکنی ٹاسک فورس قائم

  • ٹاسک فورس کا مقصد اس شعبے میں موجود ریگولیٹری خلا کو دور کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے ویسٹ ٹو انرجی کے شعبے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی تیار کرنے کی غرض سے 18 رکنی ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد اس شعبے میں موجود ریگولیٹری خلا کو دور کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر یہ ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے تاکہ پاکستان میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کی ترقی کے لیے موجودہ فریم ورک کا جائزہ لیا جا سکے اور ضروری اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری ٹاسک فورس کے کنوینر ہوں گے، جبکہ اس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، اور بین الصوبائی رابطہ و موسمیاتی تبدیلی سمیت اہم وزارتوں کے سینئر حکام بھی شامل ہیں۔

اس فورس میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کا تعلق بلدیاتی حکومتوں، توانائی اور ماحولیات کے محکموں سے ہے، تاکہ مختلف سطحوں پر مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، نجی شعبے اور صنعت سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی ٹاسک فورس کا حصہ ہیں، جن میں ڈی جی سیمنٹ، فوجی سیمنٹ اور بیسٹ وے سیمنٹ کے حکام کے علاوہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی)، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور ماحولیاتی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔

ٹاسک فورس کے طے شدہ دائرۂ کار کے تحت پاکستان کے موجودہ ویسٹ ٹو انرجی فریم ورک کا بین الاقوامی بہترین طریقوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا اور اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے قانونی، ریگولیٹری، مالیاتی اور عملی مسائل کی نشاندہی کی جائے گی۔

یہ فورس سرمایہ کاری میں سہولت اور مختلف فریقین کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے لیے قانونی و ریگولیٹری اصلاحات کی سفارشات بھی مرتب کرے گی، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنے والی قومی پالیسی اور اس کے نفاذ کے لیے واضح روڈ میپ بھی تجویز کرے گی۔

ٹاسک فورس کو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسے ضرورت پڑنے پر مزید ارکان شامل کرنے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متعلقہ امور پر غور کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں پائیدار کچرا انتظامی نظام کے فروغ، توانائی کی پیداوار میں اضافے اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026