میانمار کے فوجی حکمران، جو اب صدر بھی ہیں، چین پر نظر رکھتے ہوئے بھارت کے دورے پر روانہ
- پانچ روزہ دورے کے دوران سابق جنرل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کریں گے
میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ سے صدر کے منصب تک منتقلی کا عمل مکمل کرنے کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد، من آنگ ہلینگ ہفتے کے روز سرکاری دورے پر بھارت روانہ ہوں گے۔ سول صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا۔
پانچ روزہ دورے کے دوران وہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کریں گے۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فوجی بغاوت کے بعد پانچ برس تک سرد مہری کا شکار رہنے والے میانمار کے علاقائی روابط بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ بغاوت کے بعد خطے کے کئی ممالک نے میانمار کی فوجی قیادت سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے لیے یہ دورہ میانمار میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے، نایاب معدنیات ( ریئر ارتھس ) کے اہم ذخائر تک رسائی یقینی بنانے اور اپنی شمال مشرقی سرحدوں پر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع ہے۔
بہتر علاقائی تعلقات کی تلاش
کرائسز گروپ کے میانمار امور کے سینئر مشیر رچرڈ ہارسی نے کہا، ”صدر کے طور پر سویلین حیثیت اختیار کرنے کے بعد من آنگ ہلینگ خطے بھر میں سفارتی روابط کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”انہیں آسیان کے ساتھ تعلقات کے مزید معمول پر آنے کی توقع ہے، جس میں تھائی لینڈ اور بعض دیگر رکن ممالک کی حمایت بھی شامل ہے۔“ ہارسی کا اشارہ جنوب مشرقی ایشیا کے 11 ممالک پر مشتمل تنظیم آسیان کی جانب تھا۔ ان کے بقول، ”من آنگ ہلینگ کے جلد ہی بیجنگ کا دورہ کرنے اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔ بھارت میانمار کا دوسرا اہم ہمسایہ ملک ہے۔“
میانمار کے صدارتی دفتر کے ایک اہلکار نے فون پر رابطہ کیے جانے پر اس دورے کے بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”میانمار اور بھارت کے تعلقات سے متعلق تمام امور زیرِ بحث آئیں گے۔“
فوجی حکومت سفارتی تنہائی کا شکار رہی
یکم فروری 2021 کی صبح ہونے والی فوجی بغاوت میں من آنگ ہلینگ نے نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم منتخب سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا، جس کے نتیجے میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک بعد ازاں فوج کے خلاف ملک گیر مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گئی۔
اس فوجی بغاوت کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی، جس میں آسیان بھی شامل تھا، جس نے میانمار کے فوجی جرنیلوں کو اپنے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا۔ نتیجتاً فوجی قیادت پر مشتمل نئی انتظامیہ بتدریج سفارتی تنہائی کا شکار ہو گئی۔
گزشتہ سال آنے والے تباہ کن زلزلے نے من آنگ ہلینگ کو سفارتی سطح پر ایک موقع فراہم کیا، جس کے تحت انہوں نے بنکاک میں منعقد ہونے والے ایک علاقائی سربراہی اجلاس میں غیر معمولی شرکت کی۔ اب وہ اسی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے متنازع انتخاب کے بعد جس پر شدید تنقید کی گئی اور جس نے ان کے صدر بننے کی راہ ہموار کی۔
میانمار میں بھارت کے سابق سفیر گوتم مکھوپادھایا نے کہا کہ ”انتخابات کے بعد وہ خطے اور عالمی سطح پر مزید قبولیت اور وقار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائیاں
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ من آنگ ہلینگ کو طویل عرصے سے چین کی حمایت حاصل رہی ہے، جس کے میانمار میں مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری مفادات موجود ہیں، تاہم ان کا پہلا غیر ملکی دورہ بھارت کا ہونا جزوی طور پر میانمار میں چین کے گہرے اثر و رسوخ کا توازن قائم کرنے کی کوشش بھی ہے۔
میانمار میں بھارت کے سابق سفیر گوتم مکھوپادھایا نے کہا، ”بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات میں یہ میانمار کی روایتی حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے؛ ایک طرف چین کے ساتھ مفاہمت اور دوسری جانب بھارت کے ذریعے توازن قائم کرنے کی کوشش۔“
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب میانمار کی فوج نے ان سرحدی علاقوں میں نئی فوجی کارروائیاں شروع کی ہیں جہاں نایاب معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، اور جو بھارت اور تھائی لینڈ کے ساتھ اہم تجارتی راستوں کے قریب واقع ہیں۔
کرائسز گروپ کے میانمار امور کے سینئر مشیر رچرڈ ہارسی نے کہا، ”من آنگ ہلینگ تقریباً یقینی طور پر ارکان آرمی اور چِن مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔“ ان کا اشارہ میانمار کی ریاست چِن اور پڑوسی ریاست راکھین میں فوج کے خلاف برسرِپیکار باغی گروہوں کی جانب تھا۔ ریاست چِن کی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔
دوسری جانب، خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھی میانمار کے قدرتی وسائل تک رسائی کے راستے تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جس میں ایک طاقتور باغی گروہ کی مدد سے معدنی نمونے حاصل کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
مکھوپادھایا نے کہا، ”بھارتی نقطۂ نظر سے اس دورے کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ خام مال، نایاب معدنیات اور کاروباری مواقع کی صورت میں اسے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”اور یہی وہ چیز ہے جو میانمار کی فوج بھی چاہتی ہے، کیونکہ وہ اپنے فوجی کاروباری اداروں کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔“