کاروبار اور معیشت

پی وی ایم اے کا ہنگامی اجلاس: گھی اور کوکنگ آئل انڈسٹری کو درپیش چیلنجز پر غور

  • بڑھتے اخراجات اور پالیسیوں میں عدم استحکام صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کررہی ہے، شیخ عمر ریحان
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کا ایک غیر معمولی جنرل باڈی اجلاس شیخ عمر ریحان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شرکاء نے گھی اور کوکنگ آئل کی صنعت کو درپیش چیلنجز، حکومتی پالیسیوں، خام مال کی صورتحال، ٹیکسیشن، ریگولیٹری امور اور اس شعبے کو متاثر کرنے والے موجودہ معاشی حالات، بالخصوص مال برداری اور ٹرانسپورٹیشن اخراجات سے متعلق مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی۔

اجلاس میں سینئر وائس چیئرمین اسجد عارف، وائس چیئرمین شیخ خالد اسلام، فوڈ سیکیورٹی پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی سلمیٰ بٹ، ممتاز کاروباری رہنما اور سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر سمیت ملک بھر سے صنعت کاروں اور ایسوسی ایشن کے اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس میں صنعت سے متعلق مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ شرکاء نے اس شعبے کیلئے مستقبل کی حکمت عملیوں پر بھی غور کیا۔

اس موقع پر چیئرمین پی وی ایم اے شیخ عمر ریحان نے کہا کہ گھی اور کوکنگ آئل کی صنعت ملک کی غذائی سپلائی چین کا ایک اہم ستون ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ شعبہ اس وقت موجودہ معاشی حالات، پیداواری لاگت میں اضافے، درآمدی خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، پیٹرولیم قیمتوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے مال برداری اخراجات میں عدم استحکام اور مختلف ریگولیٹری چیلنجز کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مؤثر پالیسی سازی انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ صنعت صارفین کو معیاری اور محفوظ غذائی مصنوعات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے لیکن کاروبار کے بڑھتے اخراجات اور پالیسیوں میں عدم استحکام صنعتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کررہے ہیں۔

شیخ عمر ریحان نے کہا کہ اگر اس صنعت کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سلمیٰ بٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے صنعت کاری کو فروغ دیا جائے اور کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت غذائی تحفظ ، خوراک کے معیاری اصولوں اور فوڈ انڈسٹری کی ترقی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ صنعت کاروں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھایا جائے گا تاکہ کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026