سی پیک فیز ٹو: وزیرِ اعظم کا تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
- وزیرِاعظم شہباز شریف کی چین کی معروف کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری
وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کو چین کی معروف کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جس میں انہوں نے سی پیک فیز ٹو کے فریم ورک کے تحت اقتصادی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر موجود وزیرِاعظم نے فامسن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ژینگ جون چن کی قیادت میں وفد سے ملاقات کی اور پاکستان کے زرعی شعبے، بالخصوص اناج ذخیرہ کرنے، فیڈ پروڈکشن اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں کمپنی کی دیرینہ خدمات کو سراہا۔
انہوں نے فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی پر پاکستان کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے فامسن کو خصوصی اقتصادی زونز اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت دستیاب مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی منتقلی کی سہولیات قائم کرنے کی دعوت دی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے شانڈونگ شن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہو جیان شن اور ان کے وفد سے بھی ملاقات کی اور بحری ترقی، بیٹری مینوفیکچرنگ (پیداوار)، معدنیات کی پروسیسنگ اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں پاکستان کے اندر اس گروپ کے بڑھتے ہوئے قدموں کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے شن شو اسپیشل اکنامک زون، پورٹ قاسم پر’سی ٹو اسٹیل پروجیکٹ اور گوادر اور شمالی علاقہ جات کے معدنی شعبوں میں سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے میں گروپ کے کردار کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے ان تزویراتی (اہم) منصوبوں کے لیے اپنی حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت ان پر تیزی سے عمل درآمد کی حوصلہ افزائی کی۔
چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کارپوریشن کے چیئرمین ژانگ بنگنان اور چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے سینئر نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں وزیرِ اعظم نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ان کمپنیوں کی چھ دہائیوں سے زیادہ کی خدمات کو انتہائی سراہا، جن میں شاہراہِ قراقرم اور رشکئی اسپیشل اکنامک زون جیسے تاریخی اور یادگار منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے سی پیک کے تحت ایم ایل ون ، شاہراہِ قراقرم کی ری الائنمنٹ (دوبارہ بچھانے) اور رابطوں کے دیگر منصوبوں سمیت ترجیحی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ان کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں طویل مدتی تزویراتی شراکت دار کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
چینی کمپنیوں نے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا اور زراعت، صنعتی مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026