مشرق وسطیٰ امن امیدوں کے باعث ڈالر میں استحکام
- کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.16365 ڈالر پر مستحکم رہا
منگل کے روز امریکی ڈالر نے ابتدائی نقصانات کے بعد کچھ استحکام حاصل کیا، کیونکہ سرمایہ کاروں میں اس امید میں اضافہ ہوا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران میں جاری تین ماہ پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم ایران پر تازہ امریکی حملوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی۔
اگرچہ فوری امن معاہدے کے امکانات کم سمجھے جا رہے ہیں، لیکن امن کی امیدوں نے خام تیل کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے رکھا، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی کرنسیوں پر دباؤ کم کیا اور مجموعی طور پر رسک سینٹیمنٹ کو بہتر بنایا۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ دوحہ میں قطر کے وزیراعظم کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے ایران میں مزید اہداف پر حملے کیے ہیں تاکہ امریکی فوجیوں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.16365 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ جاپانی ین 158.95 فی ڈالر ٹریڈ ہوا۔ امریکی تعطیل کے باعث پیر کو مارکیٹ بند رہی تھی۔ ڈالر انڈیکس 99.031 پر رہا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ امن مذاکرات کی امیدوں نے مارکیٹ میں بہتری پیدا کی ہے، لیکن یہ بہتری عارضی ہو سکتی ہے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.71665 ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.58575 ڈالر تک گر گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آنے میں وقت لگے گا، اس لیے مہنگائی اور شرح سود پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کی مضبوطی کے باعث ڈالر کے خلاف کمزوری کی کوئی بڑی وجہ فی الحال موجود نہیں ہے۔