اینگرو ہولڈنگز میں حسین داؤد چیئرمین اور عبدالصمد داؤد سی ای او مقرر
- یہ تقرر 22 مئی 2026ء سے نافذ العمل ہوگا
اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ نے حسین داؤد کو بورڈ چیئرمین اور عبدالصمد داؤد کو چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کردیا ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے پیر کو اسٹاک ایکسچینج کوبھیجے گئے نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس کے مطابق اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کے انتخابات کے بعد بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حسین داؤد کو بورڈ چیئرمین اور عبدالصمد داؤد کو کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا ہے۔ ان کا یہ تقرر 22 مئی 2026ء سے نافذ العمل ہوگا جو کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز کے آئندہ انتخابات کی تاریخ تک برقرار رہے گا۔
اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ جو اس سے قبل داؤد ہرکولیس کارپوریشن لمیٹڈ کے نام سے جانی جاتی تھی، 17 اپریل 1968ء کو کمپنیز ایکٹ 1913 (موجودہ کمپنیز ایکٹ 2017) کے تحت ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔
کمپنی کی بنیادی اور اہم ترین سرگرمی اپنے سرمایہ کاری کے امور چلانا ہے جس میں اس کی ذیلی (سبسیڈریز) اور الحاق شدہ (ایسوسی ایٹڈ) کمپنیوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
حسین داؤد جو اینگرو کارپوریشن کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، ایک ممتاز کاروباری شخصیت ہیں۔ انہوں نے سال 2002ء سے کاروباری گروپ اور اس کی سرمایہ کاری کو نئے شعبوں کی طرف راغب کیا اور کمپنی کی آمدنی میں ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
حسین داؤد 1992ء سے ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ گروپ کی نمائندگی اور شراکت داری کی قیادت کررہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے کیلوگ اسکول آف مینجمنٹ سے ایم بی اے کر رکھا ہے اور وہ برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی سے میٹالرجی میں گریجویٹ ہیں۔
دوسری جانب عبدالصمد داؤد مینجمنٹ اور گورننس کا 20 سال سے زائد کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور کمپنیوں کے مرجرز اینڈ ایکوزیشنز کے شعبے میں ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔
عبدالصمد داؤد نے اربوں ڈالر کے متعدد مرجرز اینڈ ایکوزیشنز سودوں کی سربراہی کی ہے جن میں 2012ء میں اینگرو ہولڈنگز (سابقہ داؤد ہرکولیس کارپوریشن) کی جانب سے نیشنل پاور انٹرنیشنل ہولڈنگز بی وی سے دی حب پاور کمپنی کو خریدنا اور 2015ء میں ’ڈی ایچ فرٹیلائزرز کی فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کو فروخت شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہیں اینگرو کارپوریشن کی ذیلی کمپنی اینگرو فوڈز کو ڈیری سیکٹر کی عالمی سطح پر معروف کمپنی رائل فریز لینڈ کیمپینا میں ضم کرنے کی قیادت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔