اداریہ

لائسنس یافتہ سفاکیت

  • سینیٹر شیری رحمان نے بحالی مراکز کی نام نہاد شرافت بے نقاب کر کے لاچار شہریوں کو قید و فریب سے بچانے کی بڑی عوامی خدمت کی ہے
شائع اپ ڈیٹ

سینیٹر شیری رحمان نے ملک بھر میں سرگرم بحالی (ری ہیب) اور نفسیاتی مراکز کی نام نہاد شرافت کی اوڑھنی تار تار کر کے ان کے پیچھے چھپی ہولناک حقیقت کو طشت از بام کر دیا ہے، جو بلاشبہ ایک بڑی عوامی خدمت ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے زیرِ اہتمام کیجڈ ان کیئر(دیکھ بھال کی آڑ میں قید) نامی دستاویزی رپورٹ کی رونمائی پر ان کا کڑا مؤقف اس بھیانک نظام کے خلاف ایک پُر زور چارج شیٹ ہے، جس نے مسیحائی کے فریب میں جکڑے لاچار شہریوں کو ان کی آزادی، جینے کے حق اور انسانی وقار سے بے دردی سے محروم کر رکھا ہے۔

اگر اس رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی سچ ہے تو یہ مسئلہ محض انتظامی غفلت کا نہیں بلکہ ریاست کی گہری اخلاقی اور قانونی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو شفا اور مدد فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے اداروں میں بدسلوکی، قید اور جبر کا بظاہر معمول بن جانا ہے۔ بحالی مراکز کا مقصد صحت کو بحال کرنا اور افراد کو دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانا ہے نہ کہ نجی جیلوں کے طور پر کام کرنا جہاں مریضوں کو غیر قانونی طور پر محصور کیا جائے، زبردستی ادویات دی جائیں یا جائیداد کے تنازعات سے لے کر سماجی تسلط جیسے مقاصد کے لیے ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ اس لیے سینیٹر رحمان کا وکٹوریہ کے دور کے قید خانوں کے طریقوں سے موازنہ بالکل بجا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ معاشروں نے اکثر ناپسندیدہ افراد خاص طور پر خواتین، ذہنی امراض میں مبتلا افراد اور سماجی یا اقتصادی طاقت سے محروم لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے طبی اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ یہ خطرہ اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب کمزور ریگولیشن خاندانوں، ری ہیب سینٹرز کے مالکان اور طبی عملے کو بغیر کسی احتساب کے خوف کے ادارہ جاتی اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی چھوٹ دے دیتا ہے۔

سینیٹر رحمان کا یہ مشاہدہ بھی اتنا ہی تشویشناک ہے کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر رکھی ہے اور خواتین کے تحفظ و بااختیار بنانے کے قوانین بھی وضع کیے ہیں لیکن اس کے باوجود ان پر عمل درآمد انتہائی ناقص ہے۔ قانون سازی اور نفاذ کے درمیان بڑھتا ہوا یہ خلا ملک کی سب سے مستقل گورننس ناکامیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔

رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے نظام جنہیں شہریوں کا تحفظ کرنا چاہیے بعض حالات میں ایسی ڈھال بن چکے ہیں جن کے پیچھے بدسلوکی بلا روک ٹوک پنپتی ہے۔ ریگولیٹری ادارے اکثر محض سطحی معائنے کرتے ہیں، جبکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کی شکایات کے نتیجے میں شاید ہی کبھی کوئی بامعنی تحقیقات یا قانونی کارروائی عمل میں آتی ہو۔

چنانچہ یہ مسئلہ محض بحالی کے شعبے تک محدود نہیں ہے۔ یہ استثنیٰ (سزا سے بچنے) کی اس وسیع تر ثقافت کی عکاسی کرتا ہے جس میں عوامی بہبود کے ذمہ دار ادارے موثر نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔ جہاں احتساب کمزور ہو وہاں بدسلوکی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ریاست طبی پیشہ ور افراد یا نجی آپریٹرز کو ان افراد پربے لگام اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی جو بیماری، نشے کی لت یا سماجی انحصار کی وجہ سے پہلے ہی کمزور ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان کا وزارتِ صحت اور قانون، لائسنسنگ حکام اور ریگولیٹری ایجنسیوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ آزادانہ نگرانی کے نظام، شفاف معائنے، لازمی رپورٹنگ کے طریقہ کار اور غیر قانونی حراست و بدسلوکی پر سخت فوجداری سزاؤں کی فوری ضرورت ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریضوں کو نگہداشت کی بے بس چیز نہیں بلکہ ناقابلِ تنسیخ حقوق اور وقار رکھنے والے شہری تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ طاقتوروں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہریوں کا تحفظ کس طرح کرتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026