پاکستان

قومی اسمبلی سے فنانشل انسٹی ٹیوشنز ری کووری اور ایئرپورٹس اتھارٹی بل منظور

  • دونوں بل الگ الگ ایوانِ زیریں میں پیش کیے گئے، جہاں انہیں اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
شائع May 19, 2026 اپ ڈیٹ May 19, 2026 10:10am

قومی اسمبلی نے پیر کے روز فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ری کووری آف فنانسز) ترمیمی بل 2026 اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (ترمیمی بل) 2026 منظور کر لیے، جن کا مقصد بینک قرضوں کی وصولی کے قوانین کو مضبوط بنانا اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے انتظامی و عملی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

دونوں بل الگ الگ ایوانِ زیریں میں پیش کیے گئے، جہاں انہیں اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ری کووری آف فنانسز) ترمیمی بل 2026 کے اغراض و مقاصد کے مطابق اس قانون کا مقصد پاکستان میں بینک قرضوں کی وصولی اور رہن (مارگیج) کے حقوق کے نفاذ کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

بل میں ایسے طریقہ کار کی اصلاحات شامل کی گئی ہیں جن سے وصولی کے عمل میں کارکردگی اور شفافیت بہتر ہو سکے، جبکہ نیک نیتی سے کام کرنے والے کرایہ داروں (بونا فائیڈ لیس ہولڈرز) کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ بینکنگ کورٹس میں حکم امتناعی (انجکشن ریلیف) کے غلط استعمال کو محدود کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

بل کے تحت مالیاتی اداروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ رہن شدہ جائیداد پر قبضے کے لیے متعلقہ حکام سے مدد حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ نیک نیتی سے کیے گئے اقدامات کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے جبکہ بعض خلاف ورزیوں پر سزاؤں میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

ان ترامیم کا مقصد قرض دہندگان اور قرض لینے والوں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا، قرضوں کی وصولی کے نظام کو بہتر بنانا اور ملک میں کریڈٹ ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔

دوسری جانب پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (ترمیمی بل) 2026 کے مطابق یہ قانون ایوی ایشن ڈویژن کے فروری 2025 میں ڈیفنس ڈویژن میں انضمام کے بعد پیدا ہونے والی ادارہ جاتی تبدیلیوں کے مطابق قانونی و انتظامی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

موجودہ قانون اب بھی پرانی ایوی ایشن وزارت کے ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے تسلسل اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے بل میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی بورڈ میں ڈیفنس ڈویژن کے ایک مزید سینئر افسر کی شمولیت کی تجویز دی گئی ہے۔

بل میں ہنگامی صورتحال میں بورڈ کے فیصلوں کے لیے سرکولیشن کے ذریعے منظوری کا طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے، جب فوری اجلاس بلانا ممکن نہ ہو، تاہم اس کے لیے زیادہ اکثریت کی شرط رکھی گئی ہے۔

مزید یہ کہ ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت فنانس ڈویژن کی نمائندگی کو ڈیفنس ڈویژن کی نمائندگی سے تبدیل کیا جائے گا، جبکہ اتھارٹی کے ڈائریکٹر فنانس کو بھی شامل کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی تقرری کے لیے اہلیت کے معیار میں نرمی کی بھی تجویز دی گئی ہے، تاکہ نجی شعبے کے امیدواروں کو بھی موقع مل سکے، جبکہ تفصیلی شرائط قواعد کے ذریعے طے کی جائیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026