دنیا

ایران جنگ کے بعد پہلی بار بھارت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیں

  • یہ اضافہ 3 روپے فی لیٹر (تقریباً 3.4 فیصد) کے برابر ہے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کی سرکاری ملکیت میں کام کرنے والی فیول ریٹیل کمپنیوں نے چار سال بعد پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو 3 روپے فی لیٹر (تقریباً 3.4 فیصد) کے برابر ہے۔ اس اضافے کا مقصد عالمی خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث ہونے والے نقصانات کو جزوی طور پر پورا کرنا ہے۔

بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کنندہ اور صارف ملک ہے، اور حالیہ عالمی توانائی بحران، جو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہوا اور آبنائے ہرمز میں ترسیل کی رکاوٹوں سے مزید بڑھا، اس کے اثرات سے متاثر ہونے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔

سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں انڈین آئل کارپوریشن، ہندستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم نے مشترکہ طور پر قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان کمپنیوں کے پاس بھارت کے 90 فیصد سے زائد فیول اسٹیشنز کا کنٹرول ہے۔

نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں ڈیزل 90.67 روپے اور پیٹرول 97.77 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس اضافے سے دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں پہلے 120 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر گئی تھیں تاہم بعد میں یہ 100 سے 105 ڈالر کے درمیان آ گئیں۔

ماہرین کے مطابق یہ اضافہ افراطِ زر پر محدود اثر ڈالے گا، لیکن بالواسطہ اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ انڈیا نے ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں، جن میں ورک فرام ہوم اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اگرچہ معمولی ہے، لیکن آنے والے وقتوں میں مزید مرحلہ وار اضافہ متوقع ہے کیونکہ عالمی توانائی بحران برقرار ہے۔