پاکستان نے چین کی آن شور کیپیٹل مارکیٹ میں پہلا پانڈا بانڈ جاری کر دیا
- خرم شہزاد کے مطابق افتتاحی پانڈا بانڈ 3 سالہ فکسڈ ریٹ انسٹرومنٹ ہے، جو چین کی مقامی مارکیٹ میں پاکستان کی جانب سے رینمنبی کرنسی میں جاری کیا گیا، یہ پہلا خودمختار بانڈ ہے
مشیرِ وزارت خزانہ خرم شہزاد نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے جمعرات کو چین کی مقامی کیپیٹل مارکیٹ میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کر دیا ہے۔
خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ افتتاحی پانڈا بانڈ 3 سالہ فکسڈ ریٹ انسٹرومنٹ ہے، جو چین کی مقامی مارکیٹ میں پاکستان کی جانب سے رینمنبی (آر ایم بی ) کرنسی میں جاری کیا گیا پہلا خودمختار بانڈ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 1.75 ارب رینمنبی (تقریباً 25 کروڑ ڈالر) کے اس تاریخی پانڈا بانڈ کی قدر کے مقابلے میں سرمایہ کاروں نے 8.8 ارب رینمنبی (تقریباً 1.26 ارب ڈالر) سے زائد کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں یہ بانڈ 5 گنا سے بھی زیادہ اوور سبسکرائب ہوا۔
- پانڈا بانڈز سے مراد وہ بانڈز ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین میں چینی کرنسی (یوآن) میں جاری کرتے ہیں۔
خرم شہزاد کے مطابق صرف پہلی قسط کی طلب پاکستان کے پورے پانڈا بانڈ پروگرام کے طے شدہ حجم (7.2 ارب رینمنبی یا 1 ارب ڈالر) سے بھی تجاوز کر گئی۔ انہوں نے اس پیشرفت کو پاکستان کے معاشی منظرنامے اور اصلاحاتی عمل پر عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مضبوط آرڈر بک کی وجہ سے انتہائی مسابقتی قیمت (2.5 فیصد کوپن ریٹ) حاصل ہوئی، جو پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں، بیرونی استحکام، نظم و ضبط پر مبنی مالیاتی انتظام اور قرض کی ادائیگی کی صلاحیت پر مارکیٹ کے مثبت ردِعمل کو ظاہر کرتی ہے۔
مشیرِ خزانہ کے مطابق یہ محض ایک مالیاتی لین دین نہیں بلکہ چین کی کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کے داخلے اور پاک چین مالیاتی تعاون کی مضبوطی کا نشان ہے۔ انہوں نے اسے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک طاقتور پیغام قرار دیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب گزشتہ روز بیجنگ میں اس افتتاحی پانڈا بانڈ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کے لیے چین روانہ ہوئے تھے۔