دنیا

ابھرتی ہوئی معیشتیں برکس سے استحکام کی امید رکھتی ہیں، بھارت

  • حالیہ تنازعات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ مذاکرات اور سفارت کاری کی کتنی ضرورت ہے، بھارتی وزیر خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ امن عالمی نظام کی بنیاد ہے اور حالیہ تنازعات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ مذاکرات اور سفارت کاری کی کتنی ضرورت ہے۔ یہ بیان انہوں نے جمعرات کو دیا جب برکس گروپ کا دو روزہ اجلاس نئی دہلی میں شروع ہوا، جو ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کے باعث متاثر دکھائی دے رہا ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ امن اور سلامتی عالمی نظام کے مرکزی ستون ہیں، اور حالیہ تنازعات صرف اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بات چیت اور سفارت کاری کتنی اہم ہے۔

برکس گروپ، جس کی بنیاد برازیل، روس، بھارت اور چین نے رکھی تھی، 2011 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے وسعت اختیار کر گیا، جبکہ حالیہ برسوں میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات بھی اس میں شامل ہوئے۔ بھارت 2026 کے لیے اس گروپ کی صدارت کر رہا ہے۔

اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں، جن میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور یو اے ای کے نائب وزیر خارجہ بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کے باعث مشترکہ اعلامیے پر اتفاق مشکل ہو رہا ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں برکس سے استحکام اور تعمیری کردار کی توقع رکھتی ہیں۔