یوکرین کی ٹینس اسٹار سویتولینا بیلاروسی کھلاڑیوں سے متعلق آئی او سی کے فیصلے پر غمزدہ
- ایلینا سویتولینا کا روسی اور بیلاروسی حریفوں کے خلاف میچ کے بعد مصافحہ نہ کرنے کی روایت برقرار رکھنے کا عزم
یوکرینی ٹینس اسٹار ایلینا سویتولینا نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) کے اس فیصلے پر شدید دکھ کا اظہار کیا ہے جس کے تحت بیلاروسی کھلاڑیوں کو اپنے قومی پرچم تلے عالمی مقابلوں میں واپسی کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب یوکرین کے خلاف روس کی جنگ جاری ہے یہ فیصلہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد آئی او سی نے روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں پر پابندی کی سفارش کی تھی، کیونکہ بیلاروس اس حملے کے لیے بنیادی بیس کے طور پر استعمال ہوا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے آئی او سی نے اپنی پالیسی بدلتے ہوئے بیلاروسی کھلاڑیوں اور ٹیموں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
سویتولینا، جو میچ کے بعد روسی اور بیلاروسی حریفوں سے ہاتھ نہ ملانے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں نے روم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر اب بھی راکٹ برس رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک اب بھی جارح تصور کیے جاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے کہ اس طرح کے فیصلے پر غور بھی کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ ٹینس کے بڑے ٹورنامنٹس میں روسی اور بیلاروسی کھلاڑی غیر جانبدار حیثیت میں کھیل رہے ہیں، تاہم انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ آئی او سی کے اعلان سے ان کی معطلی کی پوزیشن فی الحال تبدیل نہیں ہوئی۔ دوسری جانب عالمی نمبر ون بیلاروسی کھلاڑی آریینا سابالینکا نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی انہیں ان کا قومی پرچم واپس مل جائے گا۔