کاروبار اور معیشت

پی آئی بی ایف نے معاشی بحالی کا سات نکاتی ایجنڈا پیش کردیا

  • عارضی مالیاتی اقدامات کے بجائے مستحکم، ترقی پر مبنی اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے، صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ
شائع اپ ڈیٹ

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) نے آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے 7 نکاتی معاشی بحالی کا ایجنڈا پیش کیا ہے جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ صنعتوں کی بحالی، برآمدات کے فروغ، مہنگائی میں کمی اورملک میں مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کاروبار دوست اصلاحات متعارف کرائے۔

پی آئی بی ایف کے صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو عارضی مالیاتی اقدامات کے بجائے مستحکم، ترقی پر مبنی اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت بلند شرحِ سود، مہنگی بجلی و گیس، ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

پی آئی بی ایف کی قیادت بشمول سیکرٹری جنرل محمد اعجاز تنویر اور چیف آرگنائزر معاذ قاضی نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے فوری ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

فورم نے شرحِ سود کو منطقی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگے قرضوں نے صنعتی توسیع کو شدید متاثر کیا ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے۔ پی آئی بی ایف نے ترقیاتی مالیاتی اداروں کی بحالی اور سرمایہ کاری و صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے برآمدی شعبوں کو ہدف شدہ مالیاتی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

پی آئی بی ایف نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس شرح میں کمی اور ادائیگی کے طریقہ کار کو سادہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ فورم نے طریقہ کار کی رکاوٹوں کو کم کرنے اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزڈ ’سنگل ونڈو ٹیکس سسٹم‘ کی تجویز پیش کی۔ اس کے علاوہ، فورم نے مستقل معاشی پالیسیوں اور ٹیکس گزاروں اور دوبارہ سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے مراعات کا بھی مطالبہ کیا۔

توانائی شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے معاذ قاضی نے کہا کہ بجلی اور گیس کے مہنگے نرخوں نے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کردیا ہے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو کم کردیا ہے۔ پی آئی بی ایف نے صنعتوں، بالخصوص برآمد کنندگان کیلئے خطے کی دیگر مارکیٹوں کے ہم پلہ مسابقتی توانائی ٹیرف کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی لائن لاسز کو کم کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بھی زور دیا۔

فورم نے پٹرولیم قیمتوں کے منفی معاشی اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مہنگائی کا باعث بنتا ہے۔ پی آئی بی ایف نے صارفین اور کاروباری اداروں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے فیول پرائس اسٹیبلائزیشن میکانزم کے قیام اور پیٹرولیم لیوی کو منطقی بنانے کی تجویز پیش کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026