کاروبار اور معیشت

ایف پی سی سی آئی کا نیپرا سے موجودہ پاور پلانٹس کے کیپیسٹی آڈٹ کا مطالبہ

  • بجلی کی طلب مالی سال 2035 تک 180,605 گیگا واٹ آور ہونے کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی چیمبر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیکیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025-35 کے تحت بجلی کی پیداوار میں کسی بھی نئے اضافے کی منظوری دینے سے پہلے موجودہ پاور پلانٹس کا ایک آزادانہ کیپیسٹی آڈٹ کرائے۔

انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایم پی) 2025-35 جو کہ آئی جی سی ای پی اور ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپینشن پلان پر مشتمل ہے پر اپنے تبصروں میں جس پر نیپرا 20 مئی 2026 کو عوامی سماعت کے دوران غور کرے گا، ایف پی سی سی آئی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کا بجلی کا بحران پیداواری صلاحیت کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے اس مسئلے کو لو لوڈ فیکٹر، بجلی فراہمی میں علاقائی عدم توازن اور ناقص صنعتی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے بجلی شعبے میں ڈھانچہ جاتی عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹ کیا کہ کیپیسٹی پیمنٹس سال بھر ایک جیسی رہتی ہیں جبکہ ہائیڈرو پاور کی پیداوار اور رہائشی طلب موسمی اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ جب تک اس عدم توازن کو کیپیسٹی پیمنٹ کی حد مقرر کرنے، اسٹریٹجک انحراف کی بجٹ کے ذریعے فنانسنگ اور صنعتی طلب میں اضافے کی قابلِ اعتماد حکمت عملی جیسے اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا، تب تک مزید پیداواری صلاحیت کا اضافہ گردشی قرضوں اور ٹیرف کے دباؤ کو مزید سنگین بنا دے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق لو بزنس ایز یوژول منظر نامے کے تحت، بجلی کی طلب مالی سال 2024 کے 136,760 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر مالی سال 2035 تک 180,605 گیگا واٹ آور ہونے کا امکان ہے جو کہ محض 1.8 فیصد کی سالانہ شرح نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ توقع ہے کہ بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 35,521 میگا واٹ تک پہنچ جائے گی، جبکہ ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ منظر نامے کے تحت اسے کم کر کے 28,622 میگا واٹ تک لایا جا سکتا ہے جو کہ 20 فیصد کمی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل مسئلہ بجلی کی بچت اور اس کے بہتر استعمال کا ہے، نہ کہ پیداواری صلاحیت کی کمی کا۔

تجارتی تنظیم نے نوٹ کیا کہ اس منصوبے میں 8,120 میگا واٹ کی ’نیٹ میٹرنگ‘ گنجائش شامل کی گئی جو بیہائنڈ دی میٹر بجلی کی پیداوار کی جانب بڑھتے ہوئے ڈھانچہ جاتی رجحان کا اعتراف ہے۔ تاہم تنظیم کا یہ بھی مؤقف ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے باوجود بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی ضرورت کو کم کر کے دکھایا گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے 800 میگا واٹ کے مارکیٹ بیسڈ (مارکیٹ پر مبنی) کیپیسٹی کوٹے کی شمولیت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ مالی سال 2035 تک کی کل متوقع پیداواری صلاحیت کا صرف 1.3 فیصد ہے۔ تنظیم نے اس حد کو ختم کرنے اور یہ مطالبہ کیا کہ بجلی کی پیداوار میں تمام نئے اضافے ’کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ کے ذریعے حاصل کیے جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026