بالآخر یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ ”چھوڑ دینے“ کا مرحلہ آ پہنچا ہے اور اختیارات کی باقاعدہ منتقلی کا آغاز ہو رہا ہے۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور بااختیار بنانے کے واضح آثار نمایاں ہیں۔ وہ منتقلی، جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا اور جس کی بارہا سفارش کی جاتی رہی، اب عملی صورت اختیار کر رہی ہے۔ کمپنیاں، خصوصاً وہ جو مالکان کے براہِ راست زیرِ انتظام تھیں، اب بالآخر اداروں کو چلانے کے لیے پیشہ ور سربراہان کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔
یہ پیش رفت مالک کے زیرِ انتظام چلنے والی کمپنیوں کے روایتی ڈھانچے سے ایک بڑا انحراف ہے۔ بانی کا خود سی ای او ہونا اور خاندان کے دیگر افراد کا ڈائریکٹرز کے طور پر کردار ادا کرنا—اس پرانی ترتیب میں اب بنیادی نوعیت کی تبدیلی آ رہی ہے۔ ماضی میں تو یہ ہوتا تھا کہ بعد ازاں اولاد خود بخود کاروبار سنبھال لیتی تھی، اور یہی بانی/مالک ماڈل اکثر کمپنی کے زوال تک جاری رہتا تھا۔
کاروباری دنیا میں مشہور ”تیسری نسل کا قانون“، جس کے مطابق کمپنیاں وقت کے ساتھ سکڑتی یا کمزور ہوتی جاتی ہیں، عملاً کارفرما رہا۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا، بحثیں ہوئیں، اور مکالمہ جاری رہا۔ آج کے دور میں معلومات کسی دور دراز شاہراہ پر نہیں بلکہ براہِ راست ہمارے سامنے موجود ہے، جس نے ان مباحث کو مزید شدت اور وسعت دی ہے۔ بانی پر مبنی کاروباری ماڈلز پر مسلسل تنقید اور تجزیے کے نتیجے میں کچھ اداروں نے اپنی بالائی ساخت (ٹاپ اسٹرکچر) ازسرِنو ترتیب دینا شروع کر دی ہے۔
بطور کوچ، جب میں خاندانی ملکیت والے کاروباروں میں جاتی ہوں تو یہ تبدیلی حوصلہ افزا محسوس ہوتی ہے۔ یہ ادراک اب نمایاں ہو رہا ہے کہ بانی اور خاندان کو وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہوگا اور بتدریج انتظامی گرفت کم کرنی ہوگی۔ اب بات سمجھ میں آ چکی ہے: مزید ترقی اور وسعت کے لیے پیشہ ور افراد کو قیادت سونپنا ناگزیر ہے—اور یہ اصول اب بڑی حد تک تسلیم کیا جا رہا ہے۔
چند کمپنیاں اب بورڈ ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہیں، یعنی روزمرہ انتظام پیشہ ور منتظمین کے سپرد، جبکہ خاندان کے افراد کو بورڈ کی سطح پر رکھا جا رہا ہے تاکہ نگرانی اور حکمتِ عملی میں ان کا کردار برقرار رہے۔
ان میں سے بعض کمپنیوں نے بورڈ ڈیزائن کے ماہرین سے مشاورت کی ہے اور فیملی کونسلز اور خاندانی آئین مرتب کرنے پر بھی کام کیا ہے۔ یہ نہایت مثبت اور صحت مند اقدامات ہیں—اچھا آغاز ہیں اور ان کا ہونا ضروری بھی ہے۔ تاہم، صرف یہی کافی نہیں ہوتے۔ بہت سی کمپنیوں میں ساختی تبدیلیوں کے باوجود تنظیم کے اندر رگڑ اور مزاحمت برقرار نظر آتی ہے۔ عام طور پر اختلاف کے اہم نکات (پی او سیز) یہ ہیں:
پی او سی نمبر 1 ، بانی کا ایف او ایم او (چھوٹ جانے کا خوف):
ذرا کمپنی کے ابتدائی دنوں میں بانی کا کردار تصور کیجیے۔ عموماً کہانی ایک چھوٹے آغاز سے شروع ہو کر بتدریج ترقی کی منازل طے کرنے کی ہوتی ہے۔ بانی وہ مرکزی کردار ہوتا ہے جس نے بے شمار گھنٹے صرف کر کے کمپنی کو اس مقام تک پہنچایا ہوتا ہے۔ اس گہری وابستگی کا ہونا فطری امر ہے۔ مزید یہ کہ کمپنی کا اس کی زندگی کا محور بن جانا ایک ایسی عادت ہوتی ہے جسے چھوڑنا آسان نہیں۔
جب بانیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر میٹنگ میں شرکت نہ کریں اور دفتر میں بیس بیس گھنٹے موجود نہ رہیں، تو یہ تبدیلی ان کے لیے خاصی دشوار ہوتی ہے۔ وہ بظاہر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر اندر ہی اندر ایک بے چینی رہتی ہے—کہ کہیں وہ کسی اہم چیز سے محروم نہ رہ جائیں (یعنی ایف او ایم او)۔ دہائیوں پر محیط یک رُخی معمولات جب ٹوٹتے ہیں تو ایک طرح کی خلا یا محرومی کا احساس جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بانی عملی امور میں مداخلت جاری رکھتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں اس خیال سے بھی عدمِ تحفظ لاحق ہوتا ہے کہ شاید اب کمپنی کو ان کی پہلے جیسی ضرورت نہیں رہی۔
پی او سی نمبر 2 ، تفصیلات میں حد سے زیادہ دلچسپی (ڈیٹیل ایڈکشن):
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جب بانی ہر چھوٹی بڑی بات کو جاننے کا عادی ہو جائے تو مائیکرو مینجمنٹ کی یہ عادت چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ میں ایک مرتبہ ایک بہت بڑی کمپنی کے مالک سے ایک نہایت اہم معاملے پر ملاقات کر رہی تھی۔ ان کا دفتر شیشے کی دیواروں والا تھا، جس سے باغ کا خوبصورت منظر دکھائی دیتا تھا۔
ہم گفتگو کے عین اہم مرحلے میں تھے کہ وہ اچانک اٹھے اور چند منٹ کے لیے معذرت کر کے باہر چلے گئے۔ مجھے خیال ہوا شاید کوئی ہنگامی صورتحال ہو گئی ہے۔ لیکن شیشے کی دیوار کے پار میں نے دیکھا کہ وہ باغ میں مالی کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ پودوں کے بارے میں ہدایات دے رہے تھے۔
جب وہ واپس آئے تو بڑے فخر سے بتانے لگے کہ وہ باغ کے ہر پودے کے بارے میں مالی سے کہیں زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ اور یہ صاحب کمپنی کے چیئرمین تھے۔
پی او سی نمبر 3 ، پرانے ساتھیوں کی بغاوت ( اولڈ ٹائمرز ریوولٹ):
کبھی کبھی بانی خود تو منظر سے ہٹ جاتا ہے، لیکن اس کے پرانے ساتھیوں کا ایک حلقہ بدستور موجود رہتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نئے نظامِ کار کے بارے میں شدید عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ مسلسل چیئرمین کو رپورٹ کرتے رہتے ہیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔
یہ دراصل وہ ”مخبر“ بن جاتے ہیں جو نئی قیادت کے بارے میں کہانیاں لے کر آتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ نیا سی ای او کمپنی کے وسائل ضائع کر رہا ہے۔ ایک مشہور کمپنی میں، چیئرمین نے ایک پیشہ ور سی ای او کو تعینات کیا جس نے کمپنی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ نتیجتاً کمپنی نے ملٹی نیشنل اداروں کو پیچھے چھوڑ کر مارکیٹ لیڈر کی حیثیت حاصل کی اور غیر معمولی منافع حاصل کیا۔
سی ای او نے اپنی ٹیم کو انعام کے طور پر کچھ مراعات دیں جن میں مہنگی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ پرانے ملازمین نے فوراً ان گاڑیوں کی تصاویر بنا کر چیئرمین کو یہ کہانی پہنچائی کہ یہ وسائل کا بے جا استعمال ہے۔ چیئرمین نے انکوائری شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انتہائی کامیاب کارکردگی دکھانے والا سی ای او دل برداشتہ ہو کر استعفیٰ دے گیا۔
اس نوع کے بانی-سی ای او ٹرانزیشن کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
ٹرانزیشن نمبر 1 ، بانی کے کردار کی ازسرِنو تعریف:
خاندان، خصوصاً اگلی نسل کے افراد، کو اس امر پر کافی وقت صرف کرنا چاہیے کہ بانی، ڈائریکٹرز اور دیگر خاندانی اراکین کے نئے کردار کیا ہوں گے۔ یہ عمل کسی غیر جانبدار مگر بانی کی منظوری والے کنسلٹنٹ کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
یہ کردار صرف کاغذی حد تک نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں باوقار اور بامقصد ہونا چاہیے۔ اس کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں تاکہ وضاحت پیدا ہو اور تمام فریقین کی مکمل شمولیت (بائے ان) حاصل ہو سکے۔
ساتھ ہی ایف او ایم او (چھوٹ جانے کا خوف) کا بھی حل نکالا جانا ضروری ہے۔ بانی کو غیر فعال یا غیر ضروری محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ ایک کامیاب مثال میں بانی کو ایک سماجی فاؤنڈیشن کا سربراہ بنایا گیا، جس نے انہیں اس قدر مصروف اور بااختیار رکھا کہ ان کے پاس کمپنی کے روزمرہ معاملات کے لیے وقت ہی نہیں بچا۔
ٹرانزیشن نمبر 2 ، اختیارات کی واضح حدبندی:
کامیاب تبدیلی کے لیے ایک اور بنیادی عنصر بانی، سی ای او اور ان کی ٹیم کے اختیارات کی واضح، تحریری، دستاویزی اور عملی حدبندی ہے۔
یہ حدبندی فیصلہ سازی، مالی اختیارات اور انتظامی امور کی سطح پر واضح ہونی چاہیے۔ اعتماد اسی وقت حقیقی شکل اختیار کرتا ہے جب بانی اور سی ای او دونوں اپنی اپنی حدود سے واقف ہوں، ان کا احترام کریں اور ان پر سختی سے عمل کریں۔
ٹرانزیشن نمبر 3 ، باہمی فیڈبیک ملاقاتیں:
ابتدائی مرحلے میں جب تنظیمی ڈھانچہ ازسرِنو ترتیب دیا جا رہا ہو، تو اس بات کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کہیں تبدیلی کے عمل میں مزید بہتری کی گنجائش تو نہیں۔
اس مقصد کے لیے کمپنی کو باقاعدہ، منظم اور باضابطہ ملاقاتیں منعقد کرنی چاہئیں جن میں فیملی بورڈ اور لیڈرشپ ٹیم دونوں شامل ہوں۔ ان ملاقاتوں میں کھلے مگر منظم انداز میں اس بات پر گفتگو ہو کہ کون سے کردار ٹکراؤ (فریکشن) پیدا کر رہے ہیں اور نظام کو زیادہ ہموار بنانے کے لیے کیا اصلاحات ضروری ہیں۔
بانی حضرات ایک طرح کی میراث چھوڑنے والی شخصیات ہوتے ہیں۔ انہیں کمپنی سے کہیں بڑے اور برتر مقام کے حامل ایسے افراد ہونا چاہیے جو کمپنی کے لیے مینارِ نور (لائٹ ہاؤس) کی حیثیت رکھیں، نہ کہ ایسے ”لائیو وائرز“ جو ہر وقت نظام کو اندر سے متحرک رکھنے میں الجھے رہیں۔
ان کا کردار ایک حوصلہ افزا برانڈ کے طور پر ہونا چاہیے جو کمپنی کے مستقبل کی آبیاری کرے اور اسے توانائی فراہم کرے۔
بورڈ اور سی ای او کی ذمہ داری ہے کہ بانی کے کردار کو اس سطح تک بلند کریں جہاں وہ روزمرہ کے امور سے دور رہیں، لیکن زیادہ بامعنی اور اسٹریٹجک شراکت میں مصروف ہوں۔
یاد رکھیں، کمپنی کو آگے بڑھنا ہی ہے۔ آخرکار، اگر آپ اختیارات سے دستبردار ہونے کا حوصلہ نہیں کریں گے تو کمپنی آگے کیسے بڑھے گی؟
(کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026)