اداریہ

نایاب معدنیات، ایشیائی بینک کی نئی مالیاتی سہولت کا آغاز

  • ریئر ارتھز کی ریفائننگ ایک ایسا عمل ہے جس میں ماحولیاتی خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے صدر مساتو کانڈا نے سمرقند میں جاری سالانہ اجلاس کے پہلے دن ایک نئی مالیاتی سہولت کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کو اہم معدنیات پر مشتمل سپلائی چین تیار کرنے میں مدد دینا ہے، جس میں نایاب معدنیات (ریئر ارتھز) شامل ہیں، جو صاف توانائی، بیٹریوں، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

مساتو کانڈا نے بتایا کہ اس سہولت کے دو حصے ہیں:(i) ایک گرانٹ ونڈو، جو فزیبلٹی اسٹڈیز، ماحولیاتی اسٹڈیز، سماجی جائزوں، تکنیکی معاونت اور علم کے تبادلے کے لیے فنڈ فراہم کرے گی، جس کے لیے جاپان کی حکومت نے 20 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔(ii) ایک کیٹیلیٹک ونڈو، جو دیگر شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری اور رسک شیئرنگ کو فروغ دے گی، جس کے لیے کوریا کے ایگزم بینک اور کوریا ٹریڈ انشورنس نے ہر ایک نے 500 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

ریئر ارتھز کی ریفائننگ ایک ایسا عمل ہے جس میں ماحولیاتی خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، اور یہ بات واضح ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت تمام کثیر الجہتی اداروں کے منصوبوں میں کسی بھی منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ جاپان کی طرف سے دی گئی گرانٹ میں بھی یہ عنصر شامل ہے، تاہم ریئر ارتھز کی ریفائننگ کے معاملے میں ان تقاضوں پر مکمل عمل درآمد ممکن نہیں دکھائی دیتا۔

اس اقدام کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے جیوپولیٹکس اہم ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو اپنے عہدے کے آغاز کے بعد امریکہ کے تمام تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف لگانے کا سلسلہ شروع کیا، جن میں چین بھی شامل تھا۔ دیگر ممالک نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کیے، مگر چین واحد ملک تھا جس نے جوابی ٹیرف اور ریئر ارتھز کی برآمدات پر پابندی لگا کر مزاحمت کی۔

چین دنیا کے تقریباً 60 فیصد ریئر ارتھ عناصر، 90 فیصد سے زائد عالمی پروسیسنگ اور مخصوص میگنیٹس کی 100 فیصد پیداوار پر کنٹرول رکھتا ہے، جو نہ صرف عام صنعتی مصنوعات بلکہ دفاعی مصنوعات جیسے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، سونار اور لیزر سسٹمز کے لیے بھی ضروری ہیں۔ چین کی جانب سے گزشتہ سال بعض ریئر ارتھ معدنیات اور میگنیٹس کی برآمد پر پابندی نے امریکہ کی دفاعی پیداوار کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔

جاپان اور جنوبی کوریا، جہاں امریکہ کے بڑے فوجی اڈے موجود ہیں، کی جانب سے اس نئے فنڈ میں سرمایہ کاری کو جیوپولیٹیکل تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ان ممالک نے حالیہ برسوں میں چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

امریکہ نے بھی ریئر ارتھز کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے یوکرین اور پاکستان سمیت کئی ممالک سے رابطے کیے ہیں، تاہم ان معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت قائم کرنا ایک طویل المدتی عمل ہے جو 10 سے 12 سال تک لے سکتا ہے اور اس کے سنگین ماحولیاتی اثرات بھی ہوتے ہیں۔

تنقید کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کی جانب سے اس سہولت کا آغاز بینک کو جیوپولیٹکس میں ملوث کرنے کے مترادف ہے، جو اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اگرچہ بینک اسے رکن ممالک کے وعدوں اور ترقیاتی مقاصد کے لیے فنڈنگ قرار دے سکتا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق کثیر الجہتی مالیاتی اداروں کو اس طرح کے واضح جغرافیائی سیاسی اثرات رکھنے والے اقدامات سے محتاط رہنا چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026