پاکستان کا تجارتی خسارہ اپریل 2026 میں 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو گزشتہ 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ درآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث ہوا، جس کی تصدیق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے منگل کے روز جاری کردہ اعداد و شمار میں کی۔

رپورٹ کے مطابق اپریل میں ملک کا تجارتی خسارہ 4.07 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 3.92 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد زیادہ ہے۔

اپریل 2026 میں برآمدات 2.48 ارب ڈالر رہیں، جو اپریل 2025 کے 2.17 ارب ڈالر کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

دوسری جانب درآمدات 6.55 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.5 فیصد اضافہ ہے۔

ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ مارچ 2026 کے 2.84 ارب ڈالر کے مقابلے میں 43.5 فیصد بڑھ گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ درآمدات میں 28 فیصد سے زائد اضافہ جبکہ برآمدات میں صرف 9.5 فیصد اضافہ رہا۔

جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ 31.98 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 26.59 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.3 فیصد زیادہ ہے۔

اس مدت میں برآمدات 25.21 ارب ڈالر رہیں، جو 6 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں، جبکہ درآمدات 57.19 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں، جو 7 فیصد اضافہ ہے۔