سندھ ہائی کورٹ بار کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں کے تبادلے کی مخالفت
- اقدام عدالتی خودمختاری اور آئینی تحفظات کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے، ایسوسی ایزن
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام عدالتی خودمختاری اور آئینی تحفظات کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
تفصیلی بیان میں ایسوسی ایشن نے 28 اپریل کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے لیے گئے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ججوں کا تبادلہ ان کی رضامندی کے بغیر، وجوہات بتائے بغیر اور انہیں مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر کیا گیا۔
ایس ایچ سی بی اے کے عہدیداران میں صدر محمد حسیب جمالی، نائب صدر طارق علی جاکھرانی، آنریری سیکرٹری فریدہ منگریو، آنریری ٹریژرر (خزانچی) سید نعمت اللہ شاہ، آنریری جوائنٹ سیکرٹری حذیفہ خان اور آنریری ایڈیشنل جوائنٹ سیکرٹری روپ مالا سنگھ راجپوت شامل ہیں۔ منیجنگ کمیٹی کے ممبران میں ناصرہ بروہی، عبدالوہاب بھٹو، خالد حسین شر، محمد عاطف آزاد، ڈاکٹر شارق نوید، عمران تاج، محمد فرید بلوانی میمن، رخسانہ عمر اور سری چند اوڈ شامل ہیں۔
ایکس آفیشیو (بوجہ عہدہ) ممبران میں بیرسٹر محمد سرفراز علی میٹلو (سابق صدر) اور مرزا سرفراز احمد (سابق آنریری سیکرٹری) شامل ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق یہ عمل فطری انصاف کے قائم شدہ اصولوں، خاص طور پر سماعت کے حق کی خلاف ورزی ہے اور اسے من مانی، غیر شفاف اور قانونی طور پر ناقابلِ جواز قرار دیا۔
متاثرہ ججوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں جن کا تبادلہ بالترتیب لاہور ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں کیا گیا ہے۔
متاثرہ ججوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس سمن رفعت امتیاز شامل ہیں جن کا تبادلہ بالترتیب لاہور ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں کیا گیا۔
بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ تبادلے عجلت میں کیے گئے اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے جس سے اس فیصلے کے پیچھے چھپے معیار اور نیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ اس اقدام کو تادیبی کارروائی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ان ججوں نے پہلے عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ عدالتی آزادی کو کمزور کرنے کے قانون کی حکمرانی اور قانونی نظام پر عوامی اعتماد کے حوالے سے وسیع تر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ اور انتظامی اختیار پر نظر رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور اس کی خود مختاری میں کسی بھی قسم کی کمی آئینی طرزِ حکمرانی کو نقصان پہنچائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026