ای کیپ کا ایکسچینج کمپنیوں کو بھی کرپٹو لائسنسنگ فریم ورک میں شامل کرنے کا مطالبہ
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ) نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسچینج کمپنیوں کو پاکستان کرپٹو کونسل کے لائسنسنگ فریم ورک کے ماتحت لایا جائے جس کا مقصد اس شعبے کو ملک کے ابھرتے ڈیجیٹل اثاثوں کے ریگولیٹری نظام میں باقاعدہ طور پر شامل کرنا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب سے ملاقات کی جس میں ملک کے ابھرتے ہوئے کرپٹو ریگولیٹری فریم ورک میں ہونے والی پیش رفت اور باہمی تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین ملک بوستان کی سربراہی میں ای کیپ کے وفد نے جس میں صدر ظفر پراچہ، جنرل سیکریٹری شیخ ساجد حسین اور سینئر نائب صدر سید زہیر شامل تھے، پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام کی کوششوں کو سراہا اور اسے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیوں کو قانونی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کونسل کے فعال ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) جیسے اداروں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کرپٹو سے متعلقہ آپریشنز کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے سے قبل کونسل سے این او سی حاصل کریں۔ انہوں نے اس اقدام کو عالمی ڈیجیٹل مالیاتی منظر نامے میں پاکستان کی شمولیت کے لیے ایک بنیادی قدم قرار دیا۔
ملک بوستان نے بلال بن ثاقب کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے اس اقدام کو مستقبل بینی پر مبنی اور ڈیجیٹل فنانس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے عین مطابق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے پیچھے کارفرما وژن ملک میں ترسیلاتِ زر (ریمنٹس) میں اضافہ کرنا اور سمندر پار پاکستانیوں کو تیز تر اور کم لاگت منتقلی کے قابل بنا کر سہولت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترسیلاتِ زر، جنہیں فی الوقت وصول کنندگان تک پہنچنے میں 3 سے 4 دن لگتے ہیں، اگر انہیں ایک منظم فریم ورک کے تحت اسٹیبل کوائن کے طریقہ کار کے ذریعے بھیجا جائے تو یہ عمل چند منٹوں میں مکمل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور رقم وصول کرنے والوں کے انتظار کے وقت میں کمی ہوگی۔
چیئرمین ای کیپ نے مزید بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 4 کروڑ پاکستانی کرپٹو ٹریڈنگ سے وابستہ ہیں جنہیں اکثر 5 سے 6 فیصد تک لین دین کے اخراجات (ٹرانزیکشن کاسٹ) برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی حیثیت ملنے اور ڈیجیٹل لائسنسنگ کے آغاز سے فنڈز کی تیز تر منتقلی کے ساتھ یہ اخراجات ممکنہ طور پر کم ہو کر تقریباً 1 فیصد تک رہ سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026