ایران کی نئی تجویز سے امن مذاکرات کی امیدیں بحال، ایلومینیم کی قیمتوں میں کمی
- شنگھائی فیوچرز ایکسچینج پر ایلومینیم کے سب سے زیادہ تجارت ہونے والے کنٹریکٹ کی قیمت 1.5 فیصد گر کر 24,590 یوآن فی میٹرک ٹن ہوگئی
ایلومینیم کی قیمتوں میں منگل کو کمی دیکھی گئی جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیشرفت کی بحالی کی امیدیں ہیں جو کہ ایران کی نئی تجویز کے بعد آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، تاہم جنگ کے جلد خاتمے کے حوالے سے برقرار غیریقینی صورتحال نے قیمتوں میں زیادہ گراوٹ کو محدود رکھا۔
شنگھائی فیوچرز ایکسچینج پر ایلومینیم کے سب سے زیادہ تجارت ہونے والے کنٹریکٹ کی قیمت 1.5 فیصد گر کر 24,590 یوآن (3,600.87 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن ہوگئی جو 13 اپریل کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح لندن میٹل ایکسچینج پر بینچ مارک تھری منتھ ایلومینیم کی قیمت 0.46 فیصد کمی کے ساتھ 3,561.5 ڈالر فی ٹن رہی جو 22 اپریل کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ تہران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی ایرانی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ اس تجویز سے ناخوش تھے کیونکہ اس میں ایران کے جوہری پروگرام کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
سرمایہ کار خلیج میں اس اہم آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) کے دوبارہ کھلنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے امریکہ،ایران مذاکرات کی باریک بینی سے نگرانی کررہے ہیں کیونکہ جنگ سے پہلے عالمی ایلومینیم کی سپلائی کا تقریباً 9 فیصد اسی راستے سے آتا تھا۔
دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں لیکن وہ کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جو اس جنگ کا خاتمہ کر سکے جس نے مہنگائی کو ہوادی اور عالمی اقتصادی ترقی کے منظر نامے کو دھندلا دیا ہے۔
ایران جنگ کے باعث سپلائی میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے تجزیہ کاروں نے ایلومینیم کی قیمتوں کے بارے میں اپنی پیشگوئیوں میں اضافہ کردیا تاہم رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق آنے والے مہینوں میں قیمتوں میں موجودہ بلند سطح سے کمی متوقع ہے۔
ایوربرائٹ فیوچرز کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ایل ایم ای کے گوداموں میں ذخائر کی مسلسل کمی اور اس کے برعکس شنگھائی ایکسچینج میں انونٹری کے مسلسل انبار نے ایک تضاد پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی قیمتوں کے فرق کا یکساں ہونا محدود ہو گیا ہے۔
ایس ایچ ایف ای کی دیگر دھاتوں میں تانبے کی قیمت میں 0.82 فیصد کمی ہوئی۔ ٹن کی قیمت 2.44 فیصد اور زنک کی قیمت 2.68 فیصد گرگئی۔
ایل ایم ای کی دیگر دھاتوں میں تانبے کی قیمت میں 0.03 فیصد، سیسے میں 0.18 فیصد، قلعی میں 0.55 فیصد اور جست میں 1.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کے برعکس نکل کی قیمت میں 0.54 فیصد کا اضافہ ہوا۔