صنعتکاروں کا حکومت سے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ
- بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات، فیکٹریوں میں ڈکیتیاں، صنعتکار جائیں تو جائیں کہاں؟ زبیرموتی والا،سلیم پاریکھ،جاوید بلوانی،عبدالرحمان
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صنعتکاروں نے بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات اور سازگار کاروباری ماحول کی عدم فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے مدد طلب کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔
صنعتکاروں نے سائٹ ایسوسی ایشن میں منعقدہ اجلاس میں آئی جی سندھ کو امن و امان سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ صنعتوں کو بلاتعطل چلانے کے لیے پُرامن ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ اس ماحول میں صنعتکار کہاں جائیں۔
اجلاس میں سینئر پولیس افسران کے علاوہ سائٹ ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر احمد ذوالفقار چوہدری، نائب صدر محمد طاہر گوریجا، خالد ریاض، محمد ریاض ڈھیڈھی، عبدالرشید، عبدالقادر بلوانی، شیخ ظفر احمد، محمد فرحان اشرفی، محمد حسین موسانی، محمد کامران لاکھانی، امان نسیم، جنید الرحمان، محمد رضوان لاکھانی سمیت ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صدر سائٹ ایسوسی ایشن عبدالرحمان فدا نے نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں بھتہ خوری کے تناظر میں ایک صنعتکار پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صنعتکار برادری کی جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام تر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔
انہوں نے سائٹ ایریا میں تجاوزات کی بھرمار کی نشاندہی کی جس کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہا کہ ہارڈ اور سافٹ تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا اور ساتھ ہی صنعتکار برادری سے بھتہ خوری اور انہیں نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر موتی والا نے کہا کہ تھانوں کے ماحول کی وجہ سے عوام ایف آئی آر درج کرانے سے کتراتے ہیں، اس کلچر کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ جرائم کے واقعات بغیر نام لیے درج کیے جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ سراج قاسم تیلی فلائی اوور سے ناظم آباد انڈر پاس تک روزانہ کم از کم 20 قیمتی منٹ ٹریفک جام میں ضائع ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے غلط سمت آنے والی گاڑیوں کے چالان اور شادی تقریبات میں فضائی فائرنگ سے سولر پینلز کو پہنچنے والے نقصان پر بھی توجہ دلائی جس کے جواب میں آئی جی نے شادی تقریبات میں میں ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سختی کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔
سائٹ کے سرپرست سلیم پاریکھ نے کہا کہ ایس ایس جی سی پولیس، ریلوے پولیس اور کے ڈبلیو ایس سی پولیس کی جانب سے فیکٹریوں میں بلا اطلاع چھاپے صنعتکاروں کیلئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں لہٰذا ان اداروں کے ذمہ داریوں کو منظم بنایا جائے۔
انہوں نے ایسوسی ایشن کو ایک ڈرون کیمرہ عطیہ کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ کرائم مانیٹرنگ سیل کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے۔
سابق صدر جاوید بلوانی نے سائٹ ایریا میں تجاوزات کے مستقل خاتمے، شام کے رش میں بھاری ٹریفک پر پابندی اور ٹرکوں کے لیے مخصوص پارکنگ بنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کا پہلا مرحلہ علاقے کے داخلی اور خارجی مقامات سے شروع کیا جائے اور کارخانوں کو اچھے معیار کے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی ہدایت دی جائے۔
لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین عبدالہادی نے انکشاف کیا کہ ایس آئی ٹی ای تھانہ اے، تھانہ بی اور کرائم مانیٹرنگ سیل میں مجموعی طور پر113پولیس اہلکاروں کی کمی ہے۔دونوں تھانوں کے 3 موبائلز میں سے 2 خصوصی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جس سے علاقے میں گشت بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے آئی جی سندھ سے کم از کم 8 سے 10 موبائلز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ سے فیکٹریوں میں ڈکیتی کے واقعات پھر سے شروع ہو گئے ہیں اور فلائی اوور پر خراب گاڑیاں ٹریفک کا بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے فلائی اوور کے آغاز پر ٹو ٹرک کی مستقل تعیناتی کا مطالبہ کیا۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے صنعتکاروں کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ تمام ایس اوز کو ٹیبلٹ پر خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کے لیے ایک ایپلی کیشن فراہم کر دی گئی ہے۔ کمیوٹرز کو لین ڈسپلن پر عمل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے جس کے بعد لین کی خلاف ورزی پر چالان کیے جائیں گے اور اس کا آغاز شاہراہ فیصل سے ہوگا۔