پاکستان

پاکستان نے یو اے ای کو 2.4 ارب ڈالر واپس کر دیے

  • پاکستان کو اپریل 2026 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنا تھی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو اس ماہ 2.4 ارب ڈالر کامیابی کے ساتھ واپس کر دیے ہیں، یوں اس نے اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بروقت مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ ادائیگیاں گزشتہ ہفتے کے دوران کی گئیں۔ مجموعی طور پر اس ماہ یو اے ای کے پاکستان کے پاس تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میچور ہو رہے تھے۔ ان ادائیگیوں کو مختلف اقساط میں شیڈول کیا گیا تھا، جن میں تقریباً 450 ملین ڈالر 11 اپریل، 2 ارب ڈالر 17 اپریل، جبکہ 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کیے جانے ہیں۔

ان میں سے تقریباً 2.4 ارب ڈالر گزشتہ ہفتے کے دوران واپس کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 1 ارب ڈالر کی ادائیگی 23 اپریل 2026 کو متوقع ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف ترجمان نور احمد نے 2 ارب ڈالر کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، ہم نے یو اے ای کو ڈپازٹس کی میعاد پوری ہونے پر 2 ارب ڈالر ادا کر دیے ہیں۔

پاکستان کو اپریل 2026 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنا تھی، جو ایک بڑا مالی امتحان تھا کیونکہ یہ رقم اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہے۔ ان ادائیگیوں میں 8 اپریل کو 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی اور یو اے ای کو 3.5 ارب ڈالر کی واپسی شامل ہے۔

یہ بھاری ادائیگیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب پاکستان اپنی بیرونی مالی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم حکومت اور معاشی ٹیم نے بروقت مالی وسائل حاصل کر کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا ہے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ جمعہ کے روز گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت تین سالہ یورو بانڈ کے اجرا کے ذریعے مزید 500 ملین ڈالر حاصل کیے گئے، جس کا مقصد ذخائر کو مضبوط بنانا ہے۔

سعودی عرب نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جن میں سے 2 ارب ڈالر اس ہفتے موصول ہو چکے ہیں جبکہ باقی 1 ارب ڈالر اگلے ہفتے متوقع ہے، جو یو اے ای کو باقی ادائیگیوں میں معاون ثابت ہوگا۔

10 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 1.321 ارب ڈالر کم ہو کر 15.08 ارب ڈالر رہ گئے، کیونکہ اس دوران 1.426 ارب ڈالر کے پاکستان سوورن یورو بانڈ کی ادائیگی کی گئی۔ فروری میں اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیشگوئی کی تھی کہ جون تک ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے اور دسمبر 2026 تک 20.2 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر بھاری بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باوجود پاکستان کا بیرونی کھاتہ مستحکم ہے اور زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ محدود رہنے کی توقع ہے، جس کی وجہ سعودی عرب سے موصول ہونے والی رقوم اور یورو بانڈ سے حاصل شدہ فنڈز ہیں۔

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بھی بہتر ہوا ہے اور مارچ 2026 میں 1 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور کم تجارتی خسارے نے اہم کردار ادا کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026