پاکستان

جنگ روکنےکیلئے پاکستانی کوششیں اہم اور حساس مرحلے پر ہیں، ایرانی سفیر

  • پاکستان اور ایران کے درمیان ایک ایسا فریم ورک تیار کیا گیا ہے جو فریقین کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ روکنے کے لیے مثبت اور نتیجہ خیز کوششیں ایک انتہائی حساس اور اہم مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہیں، ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم نے منگل کے روز ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا۔

روئٹرز کے مطابق پیر کے روز ایک ذریعے نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ایک ایسا فریم ورک تیار کیا گیا ہے جو فریقین کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے، جس میں دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ شامل ہے: فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی یہ کوشش جنگ میں بڑے پیمانے پر شدت کو روکنے کی آخری کوشش سمجھی جا رہی ہے، جس میں ایران کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے حملے اور خطے کے دیگر ممالک کی توانائی اور پانی کی تنصیبات پر جوابی کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔

تاہم پاکستان نے ثالثی میں اپنے کردار کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے اور اس فریم ورک کے وجود یا اس کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مختصر مدت میں جنگ بندی نہ ہوئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایرانی عوام آزادی کے لیے تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکہ نے ایسی مواصلاتی معلومات حاصل کی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ براہ کرم بمباری جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام آزادی کے لیے یہ سب برداشت کرنے کو تیار ہیں، اور یہ بات انہوں نے اس پریس کانفرنس میں کہی جو ایران کی توانائی تنصیبات اور پلوں کو تباہ کرنے کی ڈیڈ لائن سے ایک روز قبل ہوئی۔

یہ تنازع توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہا ہے، اور تاجر آبنائے ہرمز سے ترسیلات پر پڑنے والے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔