مارکٹس

جنگی صورتحال کے اثرات، ڈالر کی قدر مستحکم

  • کرنسی مارکیٹس میں ڈالر کی وسیع پیمانے پر قدر میں اضافہ دیکھا گیا
شائع March 31, 2026 اپ ڈیٹ March 31, 2026 09:35am

امریکی ڈالر منگل کے روز مسلسل مضبوطی کی طرف بڑھتا رہا اور توقع ہے کہ یہ جولائی کے بعد اپنی سب سے بڑی ماہانہ برتری حاصل کرے گا۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جس نے عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، اور اسی وجہ سے ڈالر ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مزید مضبوط ہو گیا ہے۔

کرنسی مارکیٹس میں ڈالر کی وسیع پیمانے پر قدر میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم جاپانی ین کے مقابلے میں اس کی رفتار نسبتاً محدود رہی کیونکہ ٹوکیو کی جانب سے کرنسی میں مداخلت کی وارننگز نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا ہے۔ ین 159.81 فی ڈالر کے آس پاس ٹریڈ کر رہا تھا اور اس ماہ تقریباً 2.4 فیصد کمزور ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ جاپان کی توانائی کی درآمدات پر انحصار اور بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔

یورو 0.3 فیصد کمزور ہو کر ماہانہ بنیاد پر تقریباً 3 فیصد کمی کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر کئی ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی کرنسی وون بھی 2009 کے بعد اپنی کمزور ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ڈالر انڈیکس 100.61 کی سطح پر پہنچ کر گزشتہ مئی کے بعد بلند ترین سطح پر رہا اور مارچ میں اب تک تقریباً 2.9 فیصد اضافہ دکھا رہا ہے، جو گزشتہ جولائی کے بعد سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکہ اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسی دوران خلیجی خطے میں ایک تیل بردار جہاز پر حملے کی خبر نے بھی عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے واضح اشارے نہ ملے تو ڈالر کی موجودہ مضبوطی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے کہا ہے کہ مرکزی بینک فوری پالیسی تبدیلی کے بجائے صورتحال کا جائزہ لے گا، تاہم عالمی نمو کے خطرات کے باعث ڈالر کو مزید سہارا مل رہا ہے۔