پاکستان اور آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدہ، 4.5 ارب ڈالر تک ادائیگی کی راہ ہموار
- ای ایف ایف کے تحت 1.0 ارب، آر ایس ایف کے تحت 210 ملین امریکی ڈالرتک رسائی حاصل ہوگی
پاکستانی حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عملے کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور ریزیلنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.0 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہوجائے گی، اس طرح ان دونوں انتظامات کے تحت کل ادائیگیوں کی مالیت تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
اسٹاف لیول معاہدہ اب آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔
ای ایف ایف کی معاونت سے جاری پالیسیوں نے معیشت کو مضبوط بنانے اور مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مالی سال 2025 میں بحالی کے بعد، موجودہ مالی سال کے ابتدائی حصے میں معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی۔
آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن قابو میں رہا جبکہ بیرونی مالیاتی ذخائر بھی مضبوط ہوتے رہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے معاشی منظرنامے پر غیر یقینی کے سائے ڈال دیے ہیں، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات کی سختی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور شرح نمو اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق افراطِ زر (مہنگائی) اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس قابو میں رہے جبکہ بیرونی مالیاتی ذخائرمیں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع معاشی منظر نامے پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی حالات میں سختی کے باعث مہنگائی بڑھنے، معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کا خطرہ موجود ہے۔
حکام حالیہ معاشی و مالیاتی استحکام کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط اور دانشمندانہ میکرو اکنامک پالیسیوں پر عملدرآمد کے عزم پر قائم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ساختی اصلاحات کو گہرا کیا جا رہا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے کمزور طبقات کو بچانے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ حکام کی پالیسی ترجیحات میں درج ذیل شامل ہیں:
محتاط مالیاتی پالیسی کو برقرار رکھنا: حکام پائیدار مالیاتی پوزیشن کو یقینی بنانے اور درمیانی مدت میں عوامی قرضوں کے بھاری بوجھ کو معتدل سطح تک کم کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔
اس مقصد کے لیے مالی سال 2026 کے بجٹ میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کے ہدف کو پورا کرنے اور مالی سال 2027 میں 2 فیصد بنیادی بیلنس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور اخراجات میں نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے اخراجات میں اضافہ اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی تقسیم کو بہتر بنایا جارہا ہے۔
مالیاتی ڈھانچے کی اصلاحات کو آگے بڑھانا: مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے ان اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد انتہائی اہم ہے۔ محصولات اکٹھا کرنے کی کوششوں کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں ایف بی آر اپنے ’ٹرانسفارمیشن پلان‘ کے تحت ترجیحی اقدامات نافذ کر رہا ہے اور پیشرفت کی نگرانی کے لیے کلیدی کارکردگی کے اشارے تیار کررہا ہے۔
ان ترجیحات میں ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداواری نگرانی کے استعمال کو بڑھانا اور ایف بی آر کی اندرونی گورننس کو بہتر بنانا شامل ہے۔ حال ہی میں قائم کیا گیا ’ٹیکس پالیسی آفس ایک وسط مدتی ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی تیار کررہا ہے جس کا مقصد محصولات میں استحکام اور ٹیکس پالیسی میں تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ مزید برآں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی بوجھ کی تقسیم کو بہتر بنانے اور عوامی مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘
غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کی مضبوطی: خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ شدید اتار چڑھاؤ سے کمزور طبقات کو بچانے کے لیے حکام اپنی کوششوں کا رخ متاثرہ گھرانوں کو زیادہ ہدف شدہ اور پائیدار امداد فراہم کرنے کی طرف موڑ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم، دائرہ کار اور ادائیگی کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے جس میں افراطِ زر (مہنگائی) کے تناسب سے نقد رقم کی منتقلی، مستحقین کی تعداد میں اضافہ اور ادائیگی کے بہتر طریقے شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، انسانی وسائل کی ترقی اور ہمہ جہت ترقی کے لیے، حکام پروگرام کے اہداف کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر صحت اور تعلیم کے اخراجات میں اضافے کے عزم پر قائم ہیں۔
مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھنا: اسٹیٹ بینک مہنگائی کو اپنے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے عزم پر قائم ہے اور اگر قیمتوں کا دباؤ بڑھا یا مہنگائی کی توقعات میں اضافہ ہوا، بشمول عالمی سطح پر خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے اثرات منتقلی سےتو اسٹیٹ بینک شرح سود میں اضافے کے لیے تیار ہے۔ شرح مبادلہ میں لچک کو بیرونی جھٹکوں، بشمول مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات، کے خلاف بنیادی ڈھال کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ادائیگیوں کے توازن پر ممکنہ دباؤ کے باوجود بینکنگ سسٹم درآمدی فنانسنگ اور دیگر بیرونی ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے کے قابل رہے۔
توانائی شعبے کی پائیداری کا حصول: حکام توانائی شعبے کو معاشی طور پر مستحکم بنانے اور گردشی قرضے کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے عزم پر قائم ہیں جو معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل) کے ذریعے لاگت کی وصولی کو یقینی بنا کر اس شعبے کی پائیداری کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ مزید برآں توانائی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈیز سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ مالیاتی طور پر مہنگی ہیں اور معاشی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔
اس کے ساتھ حکام کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم پر قائم ہیں جس میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں بہتری، غیر فعال سرکاری بجلی گھروں (جنکوز) کی نجکاری، مسابقتی بجلی کی مارکیٹ کی طرف منتقلی کی تکمیل، اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی میں سہولت کاری شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی گرڈ کی پائیداری کو یقینی بناتے ہوئے طلب کے مطابق پیداواری صلاحیت کو متناسب بنانا بھی شامل ہے۔
ساختی اصلاحات کو گہرا کرنا: حکام وسیع البنیاد ساختی اصلاحات کے نفاذ میں پیشرفت کر رہے ہیں جن کا مقصد گورننس کو مضبوط بنانا، نااہلیوں اور مارکیٹ کے بگاڑ کو کم کرنا، ریگولیٹری بوجھ کو کم کرنا، پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور نجی شعبے کی ترقی میں تعاون کرنا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد معاشی استحکام اور مالیاتی پائیداری کو برقرار رکھتے ہوئے طویل مدتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ حکام ادارہ جاتی صلاحیت کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف کوششوں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ ہمہ جہت ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے یکساں مواقعکو یقینی بنایا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کی تعمیر: آر ایس ایف کے تعاون سے جاری پالیسیاں جو قومی وعدوں کے عین مطابق ہیں، بشمول گرین موبلٹی کے فروغ، ٹرانسپورٹ سے کاربن کے اخراج میں کمی، ماحولیاتی معلومات کے نظام کو مضبوط بنانے اور آب و ہوا سے متعلق مالیاتی خطرات کے انتظام کے لیے حال ہی میں نافذ کی گئی اصلاحات،موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔
یہ پیش رفت رواں ماہ کے شروع میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے پر بات چیت میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کے بعد سامنے آئی ہے۔
آئی ایم ایف کی ٹیم 26 فروری کو پاکستان پہنچی تھی اور 2 مارچ سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں 4 مارچ کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وفد نے اپنا دورہ مختصر کر دیا تھا اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 3 مارچ کو اسلام آباد سے روانہ ہو گیا تھا، وہ اس وقت استنبول میں موجود تھے جہاں وزیر خزانہ ان کے ارکان کے ساتھ رابطے میں تھے۔
’