پاکستان

کراچی کو نعروں اور وعدوں کی نہیں، اختیارات کی ضرورت ہے، چیئرمین پاسبان

  • دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کو صرف بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، الطاف شکور
شائع March 24, 2026 اپ ڈیٹ March 24, 2026 03:17pm

پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی کو نعروں نہیں بلکہ اختیارات کی ضرورت ہے، جب تک اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، مسائل جوں کے توں رہیں گے، اگر اختیارات دیے جائیں تو شہر کو ایک بہتر اور قابلِ رہائش مقام بنایا جا سکتا ہے۔

اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی مسائل کے حل کے لئے منصوبوں یا وعدوں کی کمی کا شکار نہیں بلکہ اصل مسئلہ اختیارات کا فقدان ہے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کو صرف بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، مگر بدقسمتی سے برسوں سے یہی طرزِ حکمرانی جاری ہے جس میں اوپر کی سطح پر اعلانات ہوتے ہیں جبکہ نچلی سطح پر اختیار موجود نہیں ہوتا۔

الطاف شکور نے کہا کہ کراچی پاکستان کی قومی آمدنی میں 60 سے 65 فیصدحصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود شہریوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ شہر میں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے مگر صفائی کا مؤثر نظام موجود نہیں، سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور بارشوں کے دوران شہر مفلوج ہو جاتا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث شہری ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔

کراچی میں 1200 سے زائد منتخب کونسلرز اور 246یونین کمیٹیاں موجود ہیں، مگر ان نمائندوں کے پاس اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسائل حل نہیں ہو رہے اور نظام غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ ذمہ داری کے بغیر اختیار اور اختیار کے بغیر ذمہ داری کا یہ تضاد شہر کے مسائل کو مزید بڑھا رہا ہے۔

پی ڈی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ نعروں اور اعلانات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کیلئے مقامی سطح پر اختیارات، وسائل اور خودمختاری دینا ناگزیر ہے۔ ایک مرکزی نظام مقامی مسائل کا بروقت اور مؤثر حل فراہم نہیں کر سکتا، اس کیلئے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا، اگر کراچی میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے تو کچرے کا مؤثر انتظام، سیوریج کے مسائل کا بروقت حل، پانی کی فراہمی اور دیگر شہری مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔

الطاف شکور نے کہا کہ اختیارات کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ضروری ہے۔ مقامی نمائندوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام ہونا چاہیے اور کارکردگی کو باقاعدہ جانچا جانا چاہیے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کراچی کا گورننس بحران کسی راز کا محتاج نہیں بلکہ ایک ناکام نظام کا نتیجہ ہے جہاں عمل کی جگہ صرف بیانات نے لے لی ہے۔ اس کا حل مزید منصوبوں میں نہیں بلکہ ایک مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام میں ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026