لکی مروت میں آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر
- مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا
آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اتوار کو ضلع لکی مروت میں انٹیلیجنس پر مبنی ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں (جنہیں بھارتی پراکسی فتنة الخوارج’ بھی کہا جاتا ہے) کی موجودگی کی معتبر اطلاعات پر شروع کیا گیا۔ مقابلے کے دوران پاکستانی دستوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پانچ دہشت گرد مارے گئے۔
عسکری حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ یہ دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور حملوں میں ملوث تھے۔
علاقے میں کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس عزم کو دہرایا کہ نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ ”عزمِ استحکام“ وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف یہ مسلسل مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
فوج نے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کو ایسے خطرات سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
صدر مملکت آصف علی زرداری نے لکی مروت میں ’فتنة الخوارج‘ کے پانچ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ بھارت کی حمایت یافتہ یہ دہشت گرد پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوم بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
ایک علیحدہ بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لکی مروت میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عزمِ استحکام وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس جنگ میں پاک فوج کے ساتھ ہے۔