برآمدی کارگو پر 50 روپے فی کلو چارجز کے نفاذ پر ایل سی سی آئی کا اظہار تشویش
- اقدام غیر منصفانہ اور برآمدی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار، صدر فہیم سہگل کا فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے جیریزڈناٹا کی جانب سے برآمدی کارگو پر 50 روپے فی کلو چارجز کے نفاذ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ اور پاکستان کی جدوجہد کرتی ہوئی برآمدی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایل سی سی آئی کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ایئر کارگو ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (اے سی اے اے پی) نے اس اچانک اور یکطرفہ فیصلے پر سنگین خدشات سے آگاہ کیا ہے، جس سے ملک بھر کے فریٹ فارورڈرز، کارگو ایجنٹس اور برآمد کنندگان میں بے چینی پھیل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر ایسے اقدامات برآمدی آپریشنز میں خلل ڈالنے اور کاروباری برادری پر مالی بوجھ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔
فہیم الرحمان سہگل نے واضح کیا کہ پاکستانی برآمد کنندگان پہلے ہی بجلی کے مہنگے ٹیرف، بڑھتے ہوئے سفری اخراجات اور عالمی منڈی میں شدید مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں لاجسٹک چین میں کسی بھی اضافی چارج سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں مسابقت کم ہو جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ برآمدی شعبے کو مزید اخراجات کے بجائے سہولیات اور مستحکم پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ایئر لائنز سے مطالبہ کیا کہ وہ برآمد کنندگان اور ملکی معیشت کے وسیع تر مفاد میں اس فیصلے پر نظرثانی کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026