بھارتی ٹینکر کے آبنائے ہرمز سے نہ گزرنے کی تصدیق کے بعد قیمتیں بڑھ گئیں، برینٹ کروڈ 100 ڈالر سے اوپر
- ایرانی حکومت ان بحری جہازوں کو نشانہ بنارہی ہے جو اس آبنائے سے گزرنے کی کوشش کررہے ہیں
برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت جمعہ کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، کیونکہ یہ واضح ہو گیا کہ بھارتی ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا بلکہ آبنائے کے مشرق میں واقع عمان سے روانہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے۔
مئی کے لیے برینٹ فیوچرز کی قیمت 1.37 ڈالر یا 1.36 فیصد اضافے کے ساتھ 101.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی (یہ قیمت سینٹرل ڈے لائٹ ٹائم کے مطابق صبح 10:55 بجے ریکارڈ کی گئی)، جو ہفتہ وار بنیادوں پر اضافے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ اسی طرح اپریل کے لیے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 53 سینٹ یا 0.55 فیصد اضافے کے ساتھ 96.26 ڈالر فی بیرل ہو گئی اور یہ بھی اس ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے۔
ایک بھارتی سرکاری عہدیدار کے مطابق بھارت کا جھنڈا بردار تیل کے ٹینکر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ہے اور افریقہ کے لیے پٹرول لے جا رہا ہے۔ اس اطلاع کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ جہاز خود آبنائے ہرمز کے اندر سے گزرا ہے۔
ایرانی حکومت ان بحری جہازوں کو نشانہ بنارہی ہے جو اس آبنائے سے گزرنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ خلیجِ فارس اور خلیجِ عمان کے درمیان ایک قدرتی رکاوٹ یا تنگ راستہ ہے۔
امریکہ نے ان ممالک کے لیے 30 روزہ لائسنس (اجازت نامہ) جاری کردیا ہے جو سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ اقدام امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والے اضطراب کو کم کرنے اور استحکام لانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
روس کے صدارتی مندوب کیرل دیمیتریف کے مطابق اس فیصلے سے 100 ملین بیرل روسی خام تیل متاثر ہوگا جو کہ تقریباً پوری دنیا کی ایک دن کی کل پیداوار کے برابر ہے۔
ایس ای بی کے چیف کموڈٹیز اینالسٹ، بجارن شیلڈروپ کا کہنا ہے کہ روسی تیل پہلے ہی خریداروں تک پہنچ رہا تھا، یہ مارکیٹ میں تیل کی نئی مقدار تو نہیں لا رہا لیکن اس سے خریداری کے عمل میں موجود رکاوٹیں ضرور کم ہو جائیں گی۔
مارکیٹ میں اب یہ تشویش شدت اختیار کررہی ہے کہ یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا نتیجہ عالمی سپلائی میں مستقل اور طویل مدتی کمی کی صورت میں نکلے گا۔
روسی تیل سے متعلق یہ اعلان امریکی محکمہ توانائی کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن تیل کی آسمان چھوتی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے اپنے تزویراتی پیٹرولیم ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرے گا۔
یہ منصوبہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر ترتیب دیا گیا ہے جو کہ تزویراتی ذخائر سے ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے پر رضامند ہوگئی ہے جس میں امریکہ کا حصہ بھی شامل ہے۔
تاہم آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور نے ایک نوٹ میں کہا کہ آئی ای اے کی جانب سے تیل کی فراہمی کے فیصلے سے ملنے والا عارضی ریلیف مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے ختم ہوکر رہ گیا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران اپنی جنگ جاری رکھے گا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا۔
دریں اثنا عراقی سیکیورٹی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ عراق کی حدود میں موجود تیل کے دو ٹینکرز کو بارود سے بھری ایرانی کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک عراقی عہدیدار نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ملک کی تیل کی بندرگاہوں نے اپنا کام مکمل طور پر روک دیا ہے۔