کاروبار اور معیشت

ازبکستان کی آلو کی کاشت اور تحقیق کے لیے زمین فراہم کرنے کی پیشکش

  • زرعی تحقیق کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں, افتخار علی سہو
شائع March 14, 2026 اپ ڈیٹ March 14, 2026 11:50am

ازبکستان نے آلو کی کاشت اور تحقیق کے لیے زمین اور دیگر وسائل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے کیٹل فارمنگ میں پاکستانی کسانوں کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہارتاشقند ریجن کے گورنر زوئیر مرزایف نے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو اور سیکرٹری لائیو اسٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔ گورنر ازبکستان کے ایک اعلیٰ سطح وفد کی قیادت کررہے ہیں۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن (محکمہ زراعت پنجاب) نوید عصمت کاہلوں، کنسلٹنٹ محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر محمد انجم علی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس دورے کا مقصد دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ وفد کے ساتھ زرعی اجناس اور ڈیری مصنوعات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں پنجاب کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کپاس، گندم، مکئی، چاول، گنا، آلو، کنو اور آم صوبے کی اہم ترین فصلوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان کے صدر نے گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستان سے 3 لاکھ ٹن آلو درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی تحقیق کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب کے محکمہ زراعت اور لائیو اسٹاک اور حکومتِ ازبکستان کے درمیان مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔ ان ورکنگ گروپس کے لیے ایک جامع ایجنڈا تیار کیا جا رہا ہے اور اس پر تبادلہ خیال کے لیے باقاعدگی سے آن لائن میٹنگز منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ بزنس ٹو بزنس تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

سیکرٹری لائیو اسٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ نے کہا کہ ملک کی مجموعی دودھ کی پیداوار میں پنجاب کا حصہ 62 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان کو حلال گوشت اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے بھرپور امکانات موجود ہیں۔

دوسری جانب، تاشقند ریجن کے گورنر زوئیر مرزایف نے کہا کہ ازبکستان میں پاکستانی چاول کی بہت زیادہ طلب ہے جبکہ ان کا ملک پاکستانی آلو کے لیے بھی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ علاقائی تنازعات کی وجہ سے فی الوقت درآمدات اور برآمدات میں کچھ چیلنجز کا سامنا ہے۔

گورنر نے مزید کہا کہ ازبکستان آلو کی کاشت اور تحقیق کے لیے زمین اور دیگر وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ ازبک حکومت کیٹل فارمنگ میں بھی پاکستانی کسانوں کے ساتھ تعاون کرے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026