مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع کے خدشات، متحدہ عرب امارات کی اسٹاک مارکیٹس گرگئیں
- دبئی کا مرکزی شیئر انڈیکس 1 فیصد گر گیا، جس کی قیادت مالی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے نقصانات نے کی
متحدہ عرب امارات کی اسٹاک مارکیٹس جمعہ کی صبح ابتدائی تجارت میں گر گئیں کیونکہ ایران کے مسلسل حملوں نے مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع کے خدشات بڑھا دیے اور سرمایہ کاروں کے جذبات کو غیر مستحکم کر دیا۔
سرمایہ کاروں میں احتیاط میں اضافہ ہوا کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ دو ہفتے کے قریب پہنچ گئی، جس کے دوران خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کی قیادت پر سخت تنقید کی، جبکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا اور ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے میں امریکی اڈے بند کریں ورنہ ہدف بنیں گے۔
یہ کشیدگی خطے میں تجارت اور توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، خاص طور پرآبنائے ہرمز کے ذریعے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے۔
دبئی کا مرکزی شیئر انڈیکس 1 فیصد گر گیا، جس کی قیادت مالی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے نقصانات نے کی۔ ایماار پراپرٹیز 1.7 فیصد نیچے گئی، جبکہ ایمریٹس این بی ڈی 4 فیصد گر گئی۔
دبئی میں، حکام کے مطابق کامیاب انٹرسپشن کے ملبے سے شہر کے مرکز میں ایک عمارت کے سامنے کی دیوار کو معمولی نقصان پہنچا، کوئی زخمی رپورٹ نہیں ہوا۔ عینی شاہد کے مطابق نقصان دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قریب ہوا۔
ابوظہبی میں بھی اسٹاک انڈیکس 1.4 فیصد گر گیا، جہاں وسیع پیمانے پر مندی دیکھی گئی۔ فرسٹ ابوظہبی بینک 3.8 فیصد نیچے گیا، جبکہ ایلڈر پراپرٹیز 2.5 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔