کاروبار اور معیشت

مشرق وسطیٰ بحران، قطر نے گیس برآمدات پر فورس میجر نافذ کر دیا

  • فورس میجر ایک ایسا قانونی طریقہ کار ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات میں معاہدے کے تحت سپلائی کی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر کمپنیوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔
شائع March 5, 2026 اپ ڈیٹ March 5, 2026 09:09am

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران قطر نے بدھ کے روز گیس برآمدات پر فورس میجر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی گیس مارکیٹوں میں قلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قطر میں گیس کی پیداوار معمول پر آنے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

فورس میجر ایک ایسا قانونی طریقہ کار ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات میں معاہدے کے تحت سپلائی کی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر کمپنیوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی نے اس ہفتے گیس کی پیداوار روک دی تھی اور بدھ کے روز گیس کو مائع بنانے کے عمل کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے میں کم از کم دو ہفتے لگ سکتے ہیں جبکہ پیداوار کو مکمل صلاحیت تک پہنچانے کے لیے مزید دو ہفتے درکار ہوں گے۔

قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے اور یہ تمام ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں اور تہران کے ردعمل کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہو چکی ہے۔

قطر یورپ اور ایشیا کو گیس فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور اس کے 80 فیصد سے زائد خریدار چین، جاپان، بھارت، جنوبی کوریا، پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں موجود ہیں۔

پیداوار رکنے کے بعد یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتوں اور ایل این جی کی ترسیل کے کرایوں میں کئی سال کی بلند ترین سطح تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔