نیٹو دفاعی دستوں نے ترکیہ کی فضائی حدود کی طرف آنے والے ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا، انقرہ کا دعویٰ
- ایران سے داغا گیا بیلسٹک میزائل شام، عراق سے گزرنے کے بعد ترکیہ کی فضائی حدود میں جا گرا، وزارت دفاع ترکیہ
ترکیہ کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں تعینات نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام نے ایران سے فائر کیے گئے ایک بیلسٹک میزائل کواس وقت تباہ کر دیا جب یہ شام اور عراق سے گزرنے کے بعد ترکیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔
یہ واقعہ پہلی بار ہے کہ نیٹو کا رکن ترکی، ایران کا شمال مغرب میں پڑوسی ہے، ایران اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کی طرف متوجہ ہوا ہے جس میں اب خطے کے کئی ممالک شامل ہیں۔
وزارت نے کہا ہے کہ ”ہم تمام فریقین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں تنازعات کو مزید بڑھانے کا باعث بنیں۔ اس تناظر میں، ہم نیٹو اور اپنے دیگر اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھیں گے،“ وزارت نے مزید کہا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ” اپنے علاقے اور فضائی حدود کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات بھرپوراندازسے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کئے جائیں گے۔ ہم تمام فریقوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں“۔
اس واقعے کے بارے میں سینیئر ترک حکام کے دو دیگر ابتدائی بیانات میں نیٹو کے آرٹیکل 4 کا ذکر نہیں کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اتحادی ”جب بھی، ان میں سے کسی کی رائے میں، کسی رکن کی علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا، مل کر مشاورت کریں گے۔“
انقرہ نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے والے فضائی دفاعی میزائل کا ملبہ جنوب مشرقی ترکیہ کے صوبہ ہاتائے کے ضلع دورتیول میں گرا ہے۔