پاکستان امریکا اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا، اسحاق ڈار
- پاکستان ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کو تسلیم کرتا ہے، نائب وزیراعظم، اچانک حملے کی شدید مذمت
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ تین دنوں کے دوران مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے کیے گئے رابطوں کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کوششوں کا مقصد دونوں فریقین کو مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی میز پر لانا ہے۔
انہوں نے ایران پر ہونے والے اچانک حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے گزشتہ سال جون کے واقعات کا تسلسل قرار دیا۔ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تنازع کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور پاکستان پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے ایرانی حق کو تسلیم کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے ایوان کو مطلع کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بدھ کو صبح ساڑھے 11 بجے پارلیمانی و اپوزیشن لیڈروں کو ایک ’ان کیمرہ‘ بریفنگ دی جائے گی، جس میں افغانستان کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال کی وجہ سے یہ ایک مشکل وقت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایران سے 46 طلبہ سمیت 792 پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی سے متعلق اقدامات سے بھی ایوان کو آگاہ کیا۔
ایران پر ہونے والے حملوں پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے متوازن خارجہ پالیسی اور قومی اتحاد پر زور دیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کل پارلیمانی رہنماؤں کو خلیجی صورتحال پربریفنگ دیں گے۔
سینیٹر سید علی ظفر نے علاقائی سلامتی کے فریم ورک کی تجویز دی، جبکہ سینیٹر افنان اللہ خان اور جام سیف اللہ خان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسے ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ بحث میں ہدایت اللہ خان، مولانا عطا الرحمان اور دیگر سینیٹرز نے بھی حصہ لیا۔
علاوہ ازیں سینیٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کی تجارتی بہتری کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وقفہ سوالات میں بتایا کہ کراچی روہڑی سیکشن کے 480 کلومیٹر طویل ٹریک کی تبدیلی کا سنگ بنیاد رواں سال جولائی میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے مال بردار آپریشنز کو ترجیح دی جا رہی ہے اور نئے ویگنوں کے اضافے کے ساتھ ساتھ فریٹ کوریڈورز بھی بنائے جا رہے ہیں۔ سال 2024-25 کے دوران مال برداری سے 32 ارب روپے اور مسافر ٹرینوں سے 49 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔
ایوان نے ’دانش یونیورسٹی اسلام آباد بل 2026‘ اور ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ترمیمی بل 2022‘ بھی منظور کیے۔ سینیٹ کا اجلاس اب کل دوپہر 2 بجے دوبارہ ہوگا۔