دواؤں کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، حکام
- حکومت ادویات کی دستیابی اور قیمتوں پر اس پالیسی کے اثرات کی مسلسل نگرانی کررہی ہے
وزارتِ قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انوار الحق کاکڑ کی نگران حکومت کے دوران متعارف کرائی گئی دواؤں کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کی پالیسی کو واپس لینے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حکام نے بعض اراکینِ پارلیمنٹ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جارہی ہے۔
اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت وزارت یا ڈریپ کے پاس ڈی ریگولیشن فریم ورک کو تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ سال 2024 میں نگران سیٹ اپ کے دوران متعارف کرائی گئی یہ پالیسی غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کے تعین پر لاگو ہے جبکہ ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں اب بھی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
وزارتِ صحت کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ڈی ریگولیشن واپس لینے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے، یہ پالیسی برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ادویات کی دستیابی اور قیمتوں پر اس پالیسی کے اثرات کی مسلسل نگرانی کررہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بعض اراکینِ پارلیمنٹ کے عوامی بیانات نے یہ تاثر پیدا کر دیا تھا کہ حکومت اس پالیسی پر نظرثانی کرنے یا اسے واپس لینے کی تیاری کررہی ہے۔ تاہم وزارتِ صحت اور ڈریپ کے اندرونی جائزوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عام استعمال کی کئی ادویات کی طویل عرصے سے جاری قلت کے بعد اب مارکیٹ کی صورتحال مستحکم ہو چکی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026