پاکستان

علاقائی صورتحال اور اندرونی حالات کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس ملتوی

  • دورے کی نئی تاریخوں کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا
شائع March 1, 2026 اپ ڈیٹ March 1, 2026 05:22pm

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ روس دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں اس دورے کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دورے کی نئی تاریخوں کا فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایک بڑے حملے کے ابتدائی مرحلے میں شہید ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا، کیونکہ دونوں طاقتیں اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کی صبح آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ خامنہ ای اس تنازع میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس نے ایران پر ان کی حکمرانی کی سمت متعین کی تھی۔ ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد ان کی میت مل گئی ہے۔

دریں اثنا بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ (ایم او ایف اے) نے حالات کی کڑی نگرانی اور ہر ممکن امداد کی فراہمی کے لیے اپنے کرائسز مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو) کو فعال کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ یونٹ چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔

معلومات یا ہنگامی امداد کے لیے کرائسز مینجمنٹ یونٹ سے اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: 92-51-9207887+

ترجمان دفترِ خارجہ نے اتوار کو ایک پریس ریلیز میں کہا کہ خلیجی خطے میں مقیم تمام پاکستانی شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں، جہاں تک ممکن ہو گھروں کے اندر رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متعلقہ میزبان حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔

دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کی طالبان فوج کے درمیان لڑائی ہفتے کے روز تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے اس تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات کی اپیل کی ہے۔

حکام کے مطابق جمعہ کو پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت طالبان کی فوجی تنصیبات اور چوکیوں پر حملے کیے، جو کہ برسوں میں اپنے مغربی پڑوسی کے اندر پاکستان کی سب سے گہری کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

اسلام آباد طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے اقدامات کو سرحد پار حملوں کا جواب قرار دیا ہے، جبکہ کابل نے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ کابل کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن خبردار کیا کہ کسی بھی بڑے تنازع کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس لڑائی نے 2,600 کلومیٹر طویل ناہموار سرحد پر ایک طویل جنگ کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔