کاروبار اور معیشت

فروری میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 18 ماہ کی بلند ترین سطح 7.4 فیصد رہنے کا امکان

مالی سال 2026 کے دوران مجموعی افراطِ زر میں اضافے کا رجحان رہے گا، آپٹیمس کیپٹل
شائع اپ ڈیٹ

بروکریج ہاؤس آپٹیمس کیپٹل مینجمنٹ کی جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا امکان ہے جو سالانہ بنیادوں پر 7.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اضافہ بجلی اور سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہمیں توقع ہے کہ فروری 2026 میں ہیڈ لائن این سی پی آئی میں ماہانہ بنیادوں پر 0.7 فیصد اضافہ ہوگا جس سے سالانہ افراطِ زر 7.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ شرح گزشتہ ماہ کی 5.8 فیصد کے مقابلے میں زیادہ اور تقریباً 18 ماہ کی بلند ترین سطح ہوگی۔

قیمتوں میں یہ اضافہ بیس ایفیکٹ کے نتیجے میں شروع ہونے والے تیز رفتار مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں بجلی کے نرخوں میں ردوبدل اور سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مزید شدت پیدا کردی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ توقع ہے کہ خوراک کے انڈیکس میں ماہانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد کمی آئے گی جس سے (مہنگائی کے) مجموعی دباؤ میں کچھ کمی ہوگی، تاہم بنیادی افراطِ زر سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 7.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جو کہ اگست 2025 میں 7.2 فیصد کی حالیہ کم ترین سطح کے بعد دوبارہ اضافے کی جانب رجحان ہے۔

پاکستان میں مہنگائی ایک اہم اور مستقل معاشی چیلنج رہی ہے، خاص طور پر حالیہ برسوں میں۔ مئی 2023 میں کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق افراطِ زر کی شرح 38 فیصد کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

اس ریکارڈ سطح (پیک) کے بعد مہنگائی میں نمایاں اور مستقل کمی دیکھی گئی، جو ستمبر 2024 تک کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 6.9 فیصد پر آگئی اور اپریل 2025 میں 0.3 فیصد کی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تاہم، اس نچلی ترین سطح کے بعد سے افراطِ زر کی شرح نے دوبارہ اوپر کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے جو کہ رہن سہن کے اخراجات میں حالیہ اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

جنوری 2026 میں پاکستان میں مجموعی افراطِ زر سالانہ بنیادوں پر 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

آپٹیمس کیپٹل کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران مجموعی افراطِ زر میں اضافے کا رجحان رہے گا جہاں بیس ایفیکٹ کی وجہ سے جون 2026 تک مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 9 سے 10 فیصد کے قریب پہنچ سکتی ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر اضافے کی سب سے بلند شرح مارچ 2026 میں متوقع ہے۔

اس (اضافے) کی وجوہات میں شامل ہیں: (1) رمضان المبارک کے باعث طلب میں موسمی اضافہ، (2) جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی وجہ سے فروری 2026 میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور (3) بجلی کے نرخوں میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کا مثبت اضافہ شامل ہیں۔

روپے کی قدر میں مسلسل استحکام اور عالمی سطح پر تیل کی نسبتاً کم قیمتیں اب بھی (مہنگائی کے دباؤ کو) کم کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ ہمارا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2026 میں اوسط افراطِ زر 6.7 فیصد رہے گی جو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ فروری 2026 کے تخمینے کے مطابق 12 ماہ کی متوقع حقیقی شرحِ سود تقریباً 2.6 فیصد ہوگی۔