امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں، چینی وزارتِ تجارت
- ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے
چین کی وزارتِ تجارت نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکی سپریم کورٹ کے محصولات (ٹیرف) سے متعلق فیصلے کا مکمل جائزہ لے رہی ہے ، انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد متعلقہ یکطرفہ ٹیرف اقدامات کو ختم کرے۔
یہ ریمارکس ان واقعات کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی سب سے بڑی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک عبرتناک شکست دی، عدالت نے ان کے لگائے گئے بہت سے محصولات (ٹیرف) کو کالعدم قرار دے دیا جو وہ عالمی تجارتی جنگ میں استعمال کرتے رہے ہیں، جن میں حریف ملک چین کے خلاف لگائے گئے بعض محصولات بھی شامل ہیں۔
عدالتی فیصلے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ٹرمپ نے اعلان کردیا کہ وہ منگل سے تمام ممالک سے ہونے والی امریکی درآمدات پر 10 فیصد نئی ڈیوٹی (ٹیکس) عائد کریں گے، جسے انہوں نے ہفتے کو بڑھا کر 15 فیصد کر دیا۔ چینی وزارت نے مزید کہا کہ امریکہ کے یکطرفہ ٹیرف بین الاقوامی تجارتی قوانین اور خود امریکہ کے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور یہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں۔
وزارت نے کہا کہ اس نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ امریکہ تجارتی تحقیقات سمیت دیگر متبادل ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ چین اس صورتحال پر کڑی نظر رکھنا جاری رکھے گا اور اپنے مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔
ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں دنیا کی ان دو بڑی معیشتوں کے سربراہان کے درمیان ایک ایسی ملاقات متوقع ہے جس کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔