پاکستان

شمالی پاکستان میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، گلیشیئر جھیلوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا

  • شمالی پاکستان میں موسم سرما کے دوران بارش اور برف باری معمول سے کم رہی، محکمہ موسمیات
شائع February 23, 2026 اپ ڈیٹ February 23, 2026 01:04pm

پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے پیر کو کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیر پگھلنے میں تیزی آ سکتی ہے اور شمالی پاکستان میں گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

شمالی پاکستان میں موسم سرما کے دوران بارش اور برف باری معمول سے کم رہی، جو پی ایم ڈی کے جاری کردہ موسمی پیش گوئی کے مطابق ہے۔ کم بارش اور مسلسل صاف آسمان کی صورتحال کے باعث فضائی نظام مستحکم رہا اور یکم فروری سے 22 فروری تک گلگت بلتستان میں درجہ حرارت نمایاں طور پر بلند رہا۔

دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 1981-2010 کے موسمی اوسط سے 1 سے 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ سب سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ گلگت اوربونجی میں دیکھا گیا، جبکہ چلاس اور بونجی میں کم از کم درجہ حرارت میں قابل ذکر اضافہ ہوا، جس سے بہت تیزی سے جمنے کا عمل کم ہوا۔

طویل مدت تک زیادہ درجہ حرارت برف اور گلیشیئر کے پگھلنے کو تیز کر رہا ہے، خاص طور پر درمیانی اور نچلی بلندیوں پر۔ رات کے وقت درجہ حرارت کم نہ ہونے سے پگھلے پانی کا بہاؤ گلیشیئر جھیلوں میں مزید بڑھ رہا ہے۔ تیز پگھلاؤ سے مورین اور گلیشیئر ڈیم شدہ جھیلوں میں پانی جمع ہونے کی رفتار بڑھ جاتی ہے، جس سے نیچے وادیوں میں گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔

محکمہ موسمیات کی فروری تا اپریل 2026 کی پیشن گوئی کے مطابق شمالی پاکستان، بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان زیادہ ہے۔ اگر یہ حرارتی رجحان برقرار رہا، تو گلگت، غذر، ہنزہ، بونجی، چلاس اور استور جیسے خطرے والے علاقوں میں گلیشیئر کے پگھلنے اور ممکنہ گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے کہا کہ وہ درجہ حرارت کے رجحانات، گلیشیئر کے پگھلنے کی صورتحال اور ہائیڈرو میٹیرولوجیکل پیرامیٹرز کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور متعلقہ حکام اور کمیونٹی کو بروقت مشورے جاری کرے گا۔