پیشین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں پانچ دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر
- مارے جانے والوں میں میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا
بلوچستان کے ضلع پیشین میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی بھارتی حمایت یافتہ پراکسی گروپ فتنہ الخوارج کے خلاف کی گئی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ دیگر چار دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس موقع پر بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر تعریف کی اور دہشت گرد گروپ کے خلاف قومی عزم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ قوم مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک سے دہشت گردی کے ہر روپ کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں ملک بھر میں 87 دہشت گردانہ حملے ہوئے، جو دسمبر 2025 کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہیں۔ اس دوران 73 عام شہری اور 46 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ کم از کم 123 دیگر افراد زخمی ہوئے اس دوران 242 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، 12 دہشت گرد زخمی بھی ہوئے۔
بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور سکیورٹی آپریشنز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مہینے کے آخری دو دنوں میں تشدد میں تیزی آئی اور کم از کم 12 مقامات پر بلوچستان لبریشن آرمی کے ہم آہنگ حملے ہوئے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مختصر مدت میں خطرات کم کرنے میں مؤثر ہیں، تاہم طویل مدت میں محدود افادیت رکھتے ہیں، کیونکہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی، القاعدہ، آئی ایس کے پی اور ای ٹی آئی ایم افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تربیت اور سازوسامان حاصل کرتے ہیں۔