بھارت، آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک میں 65 ملین ڈالر کے فراڈ کی تحقیقات شروع
- ممبئی میں قائم اس نجی بینک نے کہا کہ چندی گڑھ برانچ کے چار ملازمین کو غیر مجاز اور فراڈ پر مبنی سرگرمیوں کی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے
بھارت کے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ 65 ملین ڈالر کے فراڈ کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں بعض ملازمین ریاستی حکومت کے اکاؤنٹس میں بے ضابطگیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ بینک نے اس معاملے سے متعلق پولیس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
بمبئی اسٹاک ایکسچینج کو ہفتے کی رات جاری بیان میں بینک نے بتایا کہ ملک کی شمالی ریاست ہریانہ کی بعض سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس میں 5.9 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ممبئی میں قائم اس نجی بینک نے کہا کہ چندی گڑھ برانچ کے چار ملازمین کو غیر مجاز اور فراڈ پر مبنی سرگرمیوں کی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔
بینک کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد ایجنسی مقرر کرے گا اور اس سلسلے میں پولیس میں باقاعدہ شکایت بھی درج کرا دی گئی ہے۔ ہریانہ حکومت اور پولیس کی جانب سے اتوار کے روز فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بیان کے مطابق بے ضابطگیاں اس وقت سامنے آئیں جب متعلقہ سرکاری اداروں نے اپنے اکاؤنٹس بند کرنے کی درخواست کی اور دونوں فریقوں کے دعویٰ کردہ رقوم میں مطابقت نہیں پائی گئی۔
آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک نے گزشتہ سہ ماہی میں 55.46 ملین ڈالر منافع رپورٹ کیا تھا۔ بینک کو گزشتہ سال واربرگ پنکس اور ابو ظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری بھی حاصل ہوئی تھی۔