پاکستان کی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی، دہشت گردوں کے 7 کیمپس تباہ
- یہ حملے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد کیے گئے۔
پاکستان نے اتوار کی علی الصبح کہا کہ اس کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان میں کارروائیاں کی ہیں۔
یہ حملے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ خودکش دھماکوں، جن میں اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ اور آج ماہِ رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ شامل ہے، کے بعد پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کے کہنے پر کیں۔
بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری بھی افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، جو فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اسلامک اسٹیٹ آف خراسان پروونس نے قبول کی۔
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابل تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت نے ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر پاکستان افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور اسلامک اسٹیٹ آف خراسان پروونس کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج اور دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے، کیونکہ پاکستان کے عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔