بھارت سے وینزویلا کے تیل کی فروخت پر مذاکرات جاری ہیں، امریکی ایلچی
- روس سے تیل کی خریداری بند کرنے پر بھارت کی رضامندی کے بعد ٹرمپ نے 25 فیصد تعزیری ٹیکس ختم کر دیا
امریکی ایلچی سرجیو گور نے جمعہ کو کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ وینزویلا کے تیل کی فروخت پر ”فعال مذاکرات“ کر رہا ہے تاکہ بھارت اپنے خام تیل کے ذرائع کو متنوع بنا سکے۔
امریکہ نے شرط رکھی ہے کہ بھارت، جو دنیا کا تیسرے نمبر کا تیل درآمد کنندہ اور صارف ہے، روسی خام تیل پر انحصار کم کرے اور اپنے ذرائع کو متنوع بنائے، تب ہی اسے اپنی درآمد شدہ اشیاء پر ٹیرف میں کمی دی جائے گی۔
نیو دہلی میں ایک تقریب کے دوران، جہاں بھارت نے امریکہ کی قیادت میں چلنے والے پیکس سلیکا اقدام میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد ہائی ٹیک مصنوعات کے لیے سلیکون سپلائی چین بنانا ہے، گور نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ” امریکا کا ڈپارٹمنٹ آف انرجی یہاں کی وزارت توانائی سے مذاکرات کر رہا ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ہی اس بارے میں کچھ خبریں سامنے آئیں گی۔“
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ بھارت کے ساتھ ایک عبوری تجارتی معاہدے کے تحت بھارتی اشیاء پر محصولات کو 18 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اسی سلسلے میں، جب بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو ٹرمپ نے 25 فیصد تعزیری محصول بھی ہٹا دیا، جسے امریکہ روس کی یوکرین پر جارحیت کی مالی معاونت قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت زیادہ تیل امریکہ سے اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے خریدے گا۔
امریکی ایلچی سرجیو گور نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ حتمی تجارتی معاہدہ ’’جلد ہی‘‘ دستخط کیا جائے گا کیونکہ صرف چند چھوٹی چیزوں پر آخری کام باقی ہے، اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو بھارت مدعو بھی کیا ہے۔
بھارت کے وزیر تجارت پیاوش گویال نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ عبوری تجارتی معاہدہ اپریل میں مؤثر ہونے والا ہے، اور امریکہ اس ماہ باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے والا ہے جس کے تحت بھارتی اشیاء پر محصولات 18 فیصد کیے جائیں گے۔
یوکرین پر روس کے 2022 کے حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس کے توانائی شعبے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے بعد بھارت روسی سمندری خام تیل کا سب سے بڑا صارف بن گیا تھا، جسے مغربی ممالک نے تشویش کا باعث قرار دیا۔
سرجیو گور نے کہا ہے کہ ” تیل کے معاملے پر ایک معاہدہ ہے… ہم نے دیکھا ہے کہ بھارت اپنے تیل میں تنوع لایا ہے۔ یہ بھارت کے بارے میں نہیں ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی روسی تیل خریدے۔“
امریکہ نے بھارت کو روسی تیل کی درآمد کو تبدیل کرنے میں مدد کے لیے وینزویلا کے تیل کی فروخت کی پیشکش بھی کی ہے، تاکہ روسی تیل کی درآمد کا متبادل مل سکے۔
گذشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ سپلائی کے معاہدے تک پہنچنے کے بعد، امریکہ نے وینزویلا کے لاکھوں بیرل تیل کی مارکیٹنگ اور فروخت کے لیے تجارتی اداروں ویٹول( Vitol) اور ٹریفیگورا( Trafigura) کو لائسنس جاری کیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق سرکاری زیر انتظام انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی ریفائنرز ریلائنس انڈسٹریز اور ایچ پی سی ایل-میتل انرجی نے بھی وینزویلا کے تیل کا آرڈر دیا ہے۔