کراچی میں گیس لیکیج سے دھماکے کے بعد عمارت زمین بوس، بچوں اور خواتین سمیت 16 افراد جاں بحق
- وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نوٹس، متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت
کراچی کے علاقے سولجر بازار 3 نمبر کی ایک رہائشی عمارت میں گیس لیکیج سے دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 4 بچوں اور 3 خواتین سمیت کم از کم 16 افراد جاں بحق اور 13 دیگر زخمی ہوگئے۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کی چھت گرگئی اور ملبے تلے کئی افراد دب گئے۔
زخمیوں اور لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ریسکیو 1122 کے آپریشن کے دوران ملبے سے 14 زخمیوں کو نکال لیا گیا جب کہ 16 لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں نرجس ولد قمبر (2 سال)، محمد ریاض ولد محمد عثمان (60 سال)، نازیہ ولد واقعہ (10 سال)، بے نظیر ولد واقعہ (15 سال)، قمبر علی ولد بلوچ خان (27 سال)، یاسمین زوجہ قمبر علی (21 سال)، سونو ولد جبار (6 سال)، وسیم ولد ندیم (5 سال)، ندیم ولد اوروس (28 سال)، سجاد ولد شاہد (12 سال)، عباس ولد شاہد (18 سال)، زین النساء زوجہ شاہد (35 سال)، اقصیٰ ولد انور علی (15 سال)، افشاء (14 سال)، انیشہ (19 سال) اور رخسار (18 سال) شامل ہیں۔
آج نیوز کے مطابق ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر واجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین ہوسکتی ہے تاہم حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے اور اسی لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ملبے تلے دبے افراد کو فوری طور پر نکالنے (ریسکیو کرنے) کی ہدایت جاری کردی ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
انہوں نے کمشنر کراچی کو واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔