بچے کی ولادت پر باپ کو چھٹی نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر جرمانہ
- بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں، وفاقی محتسب سیکریٹریٹ برائے انسداد ہراسیت
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت ( ایف او ایس پی اے ایچ ) فوزیہ وقار نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے کیونکہ بینک نے ایک ملازم کو پدری چھٹی دینے سے انکار کیا تھا۔
ایف او ایس پی اے ایچ کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سینٹرل بینک کی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک افسر نے ایف او ایس پی اے ایچ سے رجوع کیا، کیونکہ اس کی پدری چھٹی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ بینک نے چھٹی کی درخواست رد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی متعلقہ پالیسی موجود نہیں ہے۔
ایف او ایس پی اے ایچ نے اس موقع پر ایک اہم تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی پیدائش پر باپ کو چھٹی دینا لازمی ہے، جبکہ قبل ازیں درخواست گزار کی 30 روزہ پدری چھٹی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
فوزیہ وقار نے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور پدری چھٹی سے انکار بچے کے بہترین مفاد کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔“ انہوں نے حکم دیا کہ متاثرہ افسر کو مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 روزہ پدری چھٹی دی جائے۔
ایف او ایس پی اے ایچ نے مزید ہدایت دی ہے کہ اسٹیٹ بینک پاکستان بچے کی پیدائش پر والدین کے لیے چھٹی کا قانون، 2023 کے مطابق ایک پالیسی تیار کرے۔ یہ قانون جون 2023 میں نافذ ہوا تاکہ وفاقی حکومت کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کے لیے چھٹی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔